اگر دو ایسے افراد کو فرض کیا جائے جن کے دل مال کی محبت سے خالی ہیں اور ان کے نزدیک مال اور پانی برابر ہیں تو اس صورت میں مال دار اور مال سے محروم دونوں برابر ہیں(کوئی دوسرے سے افضل نہیں)کیونکہ مال ملنے کی صورت میں یہ دونوں اس سے صرف بقدرِ حاجت نَفْع اٹھاتے ہیں،البتہ بقدر ِ حاجت مال کا موجود ہونا نہ ہونے سے افضل ہے کیونکہ بھوکا شخص مَعْرِفَت کے نہیں بلکہ ہلاکت کے راستے پر چلتا ہے۔
اکثر لوگو ں کے لئے فقر میں سلامتی ہے:
اگر اکثر لوگوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کے لئے فقرمیں ہی سلامتی ہےکیونکہ خوشحالی کا فتنہ تنگدستی کے فتنے سےزیادہ خطرناک ہے اور گناہوں سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کے اسباب پر قدرت حاصل نہ ہو،اسی لئے صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے فرمایا:’’ہمیں مفلسی کی آزمائش میں مبتلا کیا گیا تو ہم نے صَبْر کیالیکن ہم مال داری کی آزمائش پر صَبْر نہ کرسکے۔‘‘ چندمخصوص افراد جن کی تعداد انتہائی قلیل ہے ان کے سوا تمام لوگوں کا یہی حال ہے اور شریعتِ مطہرہ کا خطاب عام لوگوں سے ہوتا ہے نہ کہ نادرا ورکم پائے جانےوالےافراد سے،چونکہ عام لوگوں کے لئے فقر وتنگدستی ہی مناسب ہے اس لئے شریعت ِ مطہرہ نے مال ودولت کی مَذمَّت بیان فرماکر اِس سے مَنْع فرمایا ہے اورفقر وتنگدستی کی فضیلت بیان کرکے اِس کی تعریف فرمائی ہے یہاں تک کہ حضرت سیِّدُناعیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشادفرمایا:دنیا داروں کے مال کی طرف نظر مت کرو ورنہ اس کی چمک دمک تمہارے نورِایمان کو سَلْب کرلے گی۔
ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مال کو اُلَٹ پُلَٹ کرنا ایمان کی مٹھاس کو خَتْم کردیتا ہے۔
اس امت کا بچھڑا:
ایک روایت میں ہے:اِنَّ لِكُلِّ اُمَّةٍ عِجْلًا وَّعِجْلُ هٰذِهِ الْاُمَّةِ الدِّيْنَارُ وَالدِّرْهَمیعنی ہر اُمَّت کا ایک بچھڑا ہوتا ہے اور اس اُمَّت کابچھڑا درہم ودینار ہیں۔(1)
حضرت سیِّدُناموسٰیکَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اُمَّت کے لئے سامری نے جو بچھڑا بنایا تھا وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…فردوس الاخبار،۲/ ۱۹۳،حدیث:۵۰۵۸