Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
598 - 882
 میں تاویل ممکن ہے جبکہ بعض ایسےہیں جن سے مخالِف مَوقِف کا ثُبُوت بھی ہوسکتا ہے۔مثلاً:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صِفَت ہونے کی بِناپرغَنا فقر سے افضل ہے،یہ دلیل یوں ٹوٹ سکتی ہے کہ تکبُّر بھیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صِفَت ہے، لہٰذا اسے عاجزی سے افضل ہونا چاہئے۔بندے کی صِفَت ہونے کے باعث فقر کے غَناسے افضل ہونے  کی دلیل اس طرح ٹوٹ سکتی ہے کہ عِلْم ومَعْرِفَت اور قدرتاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی جبکہ جَہْل وغفلت اور عجز بندے کی صِفات ہیں لیکن کوئی بھی بندوں کی اِن صِفات کے اُن ربّانی صفات سے افضل ہونے کا قائل نہیں ہے۔
خلاصَۂ کلام:
	اس اُلجھن کا حل ہم نے” کتابُ الصَّبْر“میں بیان کیا ہے ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز بذاتِ خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ ہو اس کی فضیلت کا تعیُّن مقصود کے اعتبار سے ہوگا۔دُنیا بذاتِ خود کوئی بُری چیز نہیں ہے بلکہ اس کی مَذمَّت کا سبَب یہ ہے کہ یہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ ہے یونہی فقر بذاتِ خود مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کی ترغیب اس لئے دلائی گئی ہےکیونکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے سے رکاوٹ بنے یا اس سے غافل کردے۔بعض مال دار ایسے ہوتے ہیں جنہیں ان کا مالاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے غافل نہیں کرتا جیسے حضرت سیِّدُنا سلیمانعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام،امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی اورحضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجبکہ کئی فقرا ایسے ہوتے ہیں جو اپنے فقر کو دور کرنے میں مصروف ہوکر اصل مقصد سےغافل ہوجاتے ہیں۔دنیا میں سب سے بڑا مقصد اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی محبت کا حصول اور اس سے مانوس ہونا ہے اور یہ مقصدمَعْرِفَتِ الٰہی کے حصول کے بعدہی پورا ہوسکتا ہے اور مشاغل کے ہوتے ہوئےراہِ معرفت پرچلناغیرممکن بات ہے۔ جس طرح مال داری اس راہ پر چلنے کے معاملے میں رکاوٹ بن سکتی ہے اسی طرح فقر بھی آڑبن سکتا ہےاور اس راستے کی اصل رکاوٹ دنیا کی محبت ہے کیونکہ کسی دل میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی محبت اورحُبِّ دنیا جمع نہیں ہوسکتے۔ کسی چیز  سے محبت کرنے والا اسی میں مشغول رہتا ہے، کبھی اس کی جدائی میں اورکبھی وصال میں، کسی کی مشغولیت جدائی میں زیادہ ہوتی ہے اور کسی کی ملا پ میں۔دنیا غافلوں کی محبوبہ ہے،جوغافل اس سے محروم ہیں وہ اس کی طلب میں لگے ہوئے ہیں اور جنہیں یہ حاصل ہے وہ اس کی حفاظت کرنے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں مصروف ہیں۔