Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
597 - 882
 ادا کرے تو مال دار فقیر کے برابر ثواب نہیں پاسکتا اگر چہ وہ 10ہزار دِرْہم صَدَقہ کرے۔دیگرتمام نیک اَعمال میں بھی یہی مُعامَلہ ہے۔
	قاصِدنے واپس جاکر فقراکو یہ فرمانِ مصطفٰے سنایا تو انہیں نے کہا:ہم راضی ہیں،ہم راضی ہیں۔(1)
	یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت سیِّدُناابن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جس رِوایت سے اِسْتِدلال کیاہے اس میں’’ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ‘‘سے مراد یہ ہے کہ کلماتِ تسبیح پڑھنے پرفقرا کومال داروں سے زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے۔
٭…دوسری دلیل کا جواب:حضرت سیِّدُناابن عطاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی دوسری دلیل کہ’’غنی ہونااللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صِفَت ہے‘‘اس کا جواب دیتے ہوئے  ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے فرمایا:کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہاللہعَزَّ  وَجَلَّ اسباب واَعراض کےذریعے غنی ہے؟یہ سن کر آپ خاموش ہوگئے اور کوئی جواب نہ دیا۔
	بعض بزرگوں نے اس دلیل کا یہ جواب دیا ہے کہ تکبُّربھیاللہعَزَّ  وَجَلَّ کی ایک  صِفَت ہے(اگریہی بات ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی صِفَت ہونے کے باعِث غَنا فقر سے اَفضل ہے) تو پھرتکبُّر کو تواضع سے افضل ہونا چاہئےبلکہ غَنا کا صِفَتِ باری تعالیٰ ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فقرغَنا سے افضل ہے کیونکہ بندے کے لئے بندوں والی صِفات افضل ہیں جیسے خوف وامید وغیرہ اور صفاتِ باری تعالیٰ میں جھگڑنامناسب نہیں،اسی لئے حدیْثِ قدسی میں ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:اَلْـکِبْرِیَآءُ رِدَآئِیْ وَالْـعَظَمَةُ اِزَارِی فَمَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا قَصَمْتُہٗ یعنی بڑائی میری رِداہے اور عظمت میراتہبند،جو ان میں سے کوئی ایک بھی مجھ سے چھیننا چاہے گامیں اسے ہلاک کردوں گا۔(2)
	حضرت سیِّدُناسَہْل بنعبداللہتُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:عزت وبقاکی محبت رَبُوْبِیَّت میں شِرک اور جھگڑا ہے کیونکہ یہ دونوں اللہعَزَّ  وَجَلَّکی صِفات ہیں۔
	فقر وغَناکے ایک دوسرے سے افضل ہونے کے سلسلے میں جو دلائل مذکور ہیں ان میں سے کئی  دلائل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،۱/ ۴۳۶
2…سنن ابی داود، کتاب اللباس ، باب ماجاء فی الکبیر،۴/ ۸۱،حدیث:۴۰۹۰، ’’قذفتہ فی النار‘‘ بدلہ’’قصمتہ ‘‘
	الاسماء والصفات للبیھقی،باب ماجاء فی الجلال والجبروت…الخ،ص۱۳۸،مطبوعة المکتبة الازھریة للتراث