(3)… قناعت اختیار کرنے والا فقیر اورمال کو روکے رکھنے کاحریص مال دار۔
(4)…لالچی فقیراور بھلائی کے کاموں میں مال خرچ کرنے والا مال دار۔
ان چاروں صورتوں میں سے تیسری صورت میں فقیر اور چوتھی صورت میں مال دار کا افضل ہونا ظاہر ہے لیکن پہلی دونوں صورتوں میں تردّد ہےاس لئے اسے بیان کیا جاتا ہے:
قناعت پسندفقیر اور شاکرمال دار میں سے کون افضل ہے؟
پہلی صورت میں بعض اوقات یہ گمان کیا جاتا ہے کہ مال دار،فقیرسے افضل ہے کیونکہ مال کی حرص کمزورہونے میں یہ دونوں برابر ہیں لیکن مال دار کو فقیر پر یہ برتری حاصل ہے کہ وہ صَدَقات وخیرات کے ذریعےاللہعَزَّ وَجَلَّ کا قُرب حاصل کرتا ہے جبکہ فقیر ایسا نہیں کرسکتا۔میرے خیال میں حضرت سیِّدُنا ابن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایسے ہی مال دار کو فقیر سے افضل قرار دیا ہے،البتہ ایسا مال دار جو اپنے مال سے فائدہ حاصل کرے اگرچہ جائز طریقے سے ،اس کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ قناعت اختیار کرنے والے فقیر سے افضل ہو۔
مال داری کی فقر پر فضیلت کے دلائل اور ان کے جوابات:
٭…پہلی دلیل:حضرت سیِّدُنا ابن عطاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےمَوقِف کی تائیداس روایت سے بھی ہوتی ہےکہ فقرا صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:مال دارلوگ خیرات،صَدَقات،حج اور جِہاد کے ذریعےنیکیوں میں ہم سے سبقت لے گئے۔تورحمَتِ عالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں تسبیح کے کلمات سکھائے اور بتایا کہ تم ان کے ذریعے مال داروں سے زیادہ ثواب حاصل کرسکتے ہو۔ مال دار صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بھی ان کلمات کو سیکھ کر پڑھنا شروع کردیا۔اس پر فقراصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندوبارہ بارگاہِ رسالت میں حاضرہوئے اورعرض گزار ہوئے توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُیعنی یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الکبری للبھقی،کتاب الصلوة،باب الترغیب فی مکث المصلی فی مصلاہ…الخ،۲/۲۶۵،حدیث:۳۰۲۴، مفھومًا