Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
594 - 882
مجھے بھی دے گی۔
	(۶)…باری تعالیٰ کی عطاکردہ عزت مَحفُوظ رہتی ہے جسے کوئی شے میلا نہیں کرتی اور اس کی توجہ ہر آن رہتی ہے جس میں کمی نہیں آتی۔
	(۷)…بے شک قناعت اِختیار کرنے والابندہ پے در پے غموں سے مَحفُوظ ہوجاتا ہے۔
چوتھی فصل:				فَقْر کی مال داری پر فضیلت
	اس مُعامَلے میں بزرگانِ دینرَحْمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکی رائے مختلف ہے۔حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی ،حضرت سیِّدُناابراہیم خوَّاص اور اکثر مشائخرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی رائے یہ ہے کہ فقر مال داری سے افضل ہےجبکہ حضرت سیِّدُناابن عطاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ مال کے حق کو ادا کرنے والا شاکر مال دارصابرفقیر سے افضل ہے۔منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے اس مسئلےمیں حضرت سیِّدُنا اِبْنِ عَطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مُخالَفَت کے سبَب ان کے خِلاف دُعافرمائی جس کے باعِث انہیں تکلیف اُٹھانی پڑی۔
	یہ حِکایت اور صَبْر وشکر میں فَرق کی وجہ ہم نے’’کتابُ الصَّبر‘‘میں بیان کی ہے نیز وہاں یہ بھی بیان کیا ہے کہ اَعمال واَحوال میں فضیلت تفصیل کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتی۔
	اگر مطلق فقراورمطلق مال داری کا تقابل کیا جائے تو فقر کی فضیلت کے بارے میں منقول آثاراور رِوایات پر نَظَر رکھنے والا شخص اس بات میں شک نہیں کرسکتا کہ فقر افضل ہے۔
فقیر اَفضل ہے یا مال دار؟
	یہاں کچھ تفصیل کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ(چارممکنہ صورتوں میں سے )دو صورتیں  ایسی ہیں جن میں شک ہوسکتا ہے:
(1)…وہ فقیر جو صابر ہو،طلبِ مال کا حریص نہ ہو بلکہ قناعت اختیار کرے اور راضی رہے اوروہ مال دار جو اپنے مال کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرے اور مال کو روکے رکھنے کا حریص نہ ہو۔
(2)…وہ فقیر جو طلَبِ مال کا حریص ہو اور وہ مال دار جو مال کو روکے رکھنے کا حریص ہو۔