بھی تم اس میں سے اسی قدر استعمال کرسکتے ہو جتنا تمہارارِزْق ہے ۔اگر میں تمہیں بقدرِکفایت دیتا رہوں اور حساب دوسروں سے لوں تو یہ تم پر میرا احسان ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
اِضرَعْ اِلَى اللہ لَا تَضْرَعْ اِلَى النَّاس وَاقْنَعْ بِيَاسٍ فَاِنَّ الْعِزَّ فِی الْيَاس
وَاسْتَغْنِ عَنْ كُلِّ ذِىْ قُرْبٰى وَذِىْ رَحْم اِنَّ الْـغَنِىَّ مَنِ اسْتَغْنٰى عَنِ النَّاس
ترجمہ:(۱)…لوگوں کے بجائے بارگاہِ الٰہی میں فریاد کرو اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مایوس ہوجاؤ کیونکہ اسی میں عزت ہے۔
(۲)…اپنے رشتے داروں اور قرابت داروں سے بھی بے نیاز ہوجاؤ کیونکہ مال دار وہی ہے جو لوگوں سے بے نیا ز ہو۔
ایک اور شاعر نے قناعت کو اس انداز میں بیان کیا ہے:
يَا جَامِعًا مَّانِعًا وَّالدَّهْرُ يَرْمُقُهٗ مُقَدِّرًا اَىَّ بَابٍ مِّنْهُ يُغْلِقُهٗ
مُفَكِّرًا كَيْفَ تَاْتِيْهِ مَنِيَّـتُهٗ اَغَادِيًا اَمْ بِهَا يَسْرِىْ فَتُطْرِقُهٗ
جَمَعْتَ مَالًا فَقُلْ لِّىْ هَلْ جَمَعْتَ لَهٗ يَا جَامِعَ الْمَالِ اَيَّامًا تُفَرِّقُهٗ
اَلْمَالُ عِنْدَكَ مَخْزُوْنٌ لِّوَارِثِهٖ مَا الْمَالُ مَالُكَ اِلَّا يَوْمَ تُنْفِقُهٗ
اِرْفَهْ بِبَالِ فَتًى يَغْدُوْ عَلٰى ثِقَةٍ اَنَّ الَّذِىْ قَسَّمَ الْاَرْزَاقَ يَرْزُقُهٗ
فَالْعِرْضُ مِنْهُ مَصُوْنٌ مَايُدَنِّسُهٗ وَالْوَجْهُ مِنْهُ جَدِيْدٌ لَّيْسَ يَخْلُقُهٗ
اِنَّ الْقَنَاعَةَ مَنْ يُّحَلِّلُ بِسَاحَتِهَا لَمْ يَـبْقَ فِیْ ظِلِّهَا هَمًّا يُّوْرِقُهٗ
ترجمہ:(۱)…اے مال جَمْع کرکے روک رکھنے والے! زمانہ اس تاک میں ہے کہ تجھ سے کون سادروازہ بند کرے۔
(۲)…اس فکر میں ہے کہ تیری موت کس طرح آئے گی،تو صُبْح کو کُوچ کرے گا یا پھر شام کو۔
(۳)…تم نے مال تو جَمْع کرلیا ہےلیکن یہ توبتاؤ کہ کیا تم نے اس مال کو خرچ کرنے کے لئے وقت بھی جمع کیا ہے۔
(۴)…مال تمہارے پاس تمہارے وارثوں کے لئے ذخیرہ ہے، تمہارا مال صِرف وہ ہے جو تم نے خَرچ کردیا۔
(۵)…اس شخص کی طرح زندگی گزارو جسے اس بات کا یقین ہے کہ جس ذاتِ پاک نے ساری مخلوق کو رِزْق دیا ہے وہ