فرمایا:کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے بھی کم تر چیز پر راضی ہے؟اس نے عرض کی :ضرور بتائیے! فرمایا:وہ جو آخرت کے بدلے دنیا لینے پر راضی ہوگیا۔
وہ کسی کا محتاج نہیں ہوسکتا:
حضرت سیِّدُنامحمد بن واسعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخشک روٹی کو پانی سے تر کرکے نمک کے ساتھ تناوُل فرمالیتے اور فرماتے:جو اتنی مقدار پر دنیا سے راضی ہوجائے وہ کسی کا محتاج نہیں ہوسکتا۔
حضرت سیِّدُناحسن بَصْریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّان لوگوں پر لعنت فرمائے جن کے لئے اس نے قسم کے ساتھ رِزْق کا وعدہ فرمایا پھر بھی وہ اس کی بات پر بھروسانہیں کرتے۔پھر آپ نے یہ آیتِ طَیِّبَہ تلاوت فرمائی:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (پ۲۶،الذٰریٰت:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان میں تمہارا رِزْق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔
دشوار گزار گھاٹی:
حضرت سیِّدُناابوذَرغِفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک دن لوگوں کے درمِیان تشریف فرماتھے کہ آپ کی زوجہ نے آکرعرض کی:آپ یہاں لوگوں کےدرمِیان بیٹھے ہیں جبکہ بخدا!گھر میں کھانے پینے کو کچھ نہیں ہے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:اے عورت!ہمارے سامنے ایک ایسی دشوار گزارگھاٹی ہے جس سے صرف ہلکے بوجھ والے ہی نجات پائیں گے۔یہ سن کر آپ کی زوجہ راضی ہوکر واپس چلی گئیں۔
حضرت سیِّدُناذُوالنُّون مصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرماتے ہیں:وہ فاقہ زدہ شخص جسے صَبْر کی دولت حاصل نہ ہو وہ دیگر لوگوں کی بَنِسْبَت کُفر سے زیادہ قریب ہے۔
ایک دانا(عقل مند) سے پوچھا گیا:آپ کا مال کیا ہے؟جواب دیا:ظاہر میں زینت،باطن میں اعتدال اور لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے مایوسی۔
یہ تم پر میرا احسان ہے:
ایک آسمانی کتاب میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےفرمایا:اے انسان!اگر پوری دنیا تمہاری مِلْک ہوجائے تو پھر