کرتا ہے:اے ابن آدم!وہ قلیل مال جو تمہیں کفایت کرے اس کثیر مال سے بہتر ہے جو تمہیں سرکش بنادے۔
مال کی زیادتی نفع مند نہیں:
حضرت سیِّدُناابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:ہر شخص کی عقل ناقص ہےکیونکہ جب اس کے پا س دنیا زیادہ مقدار میں آتی تو یہ خوش ہوجاتا ہے لیکن اسے اس بات کا غم نہیں ہوتا کہ رات اور دن اس کی عُمْر کو ختم کرنے میں مصروف ہیں۔انسان پر افسوس ہے کہ عُمْر کی کمی کے ساتھ مال کی زیادتی نفع نہیں دیتی۔
حقیقی مال داری:
ایک دانا(عقل مند)سے پوچھا گیا کہ مال داری کس چیز کا نام ہے؟جواب دیا:خواہشات کی کمی اور بقدرِ کفایت مال پر راضی رہنا۔
حکایت:سیِّدُناابراہیم بن اَدْہمرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اور ایک فقیر
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمخُراسان کے مال دار لوگوں میں سے تھے۔ایک دن آپ اپنے محل سے باہردیکھ رہے تھے کہ ایک شخص پر نظر پڑی جس کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا جسے وہ کھارہا تھا،کھانے کے بعد وہ سوگیا۔آپ نے ایک غلام سے فرمایا:جب یہ شخص بیدار ہو تو اسے میرے پاس لانا۔چنانچہ اس کے بیدار ہونے پر غلام اسے آپ کے پاس لے آیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے فرمایا:اے شخص!کیا روٹی کھاتے وقت تم بھوکے تھے؟اس نےعرض کی :جی ہاں!پوچھا : کیا اس روٹی سے تم سیر ہوگئے؟عرض کی:جی ہاں!آپ نے پھر سوال کیا:روٹی کھانے کے بعدتمہیں اچھی طرح نیند آئی؟عرض کی:جی ہاں!اس کی یہ باتیں سن کرحضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے د ل میں سوچا:جب ایک روٹی سے بھی گزارہ ہوسکتا ہے تو پھر میں اتنی دنیالے کر کیا کروں۔
حکایت:نمک اور سبزی پر قناعت
حضرت سیِّدُنا عامِر بن عبدُالقَیْسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنمک اور سبزی تناوُل فرمارہے تھے کہ آپ کے پاس سے ایک شخص گزرا ۔اس نے عرض کی:اے عبداللہ!کیاآپ اتنی مقدار پر دنیا سے راضی ہیں؟آپ نے