Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
590 - 882
	اللہعَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنااسماعیلذَبِیْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ مجھے شکستہ دل لوگوں کے پاس تلاش کرو۔عرض کی:وہ کون ہیں؟ارشاد فرمایا:سچے فقرا۔
(7)…لَا اَحَدٌاَ فْضَلُ مِنَ الْـفَقِيْرِاِذَاكَانَ رَاضِيًـایعنی فقیر اگر راضی(برضائے الٰہی)ہو تو اس سے افضل کوئی نہیں۔(1)
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے منتخب و چنے ہوئے بندے:
(8)…بروزِقیامتاللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرمائے گا:مخلوق میں سے میرےمُنْتَخَب اور چنےہوئےلوگ کہاں ہیں؟ فَرِشتے عرض کریں گے:اے پَرْوَرْدَگارعَزَّ  وَجَلَّ!وہ کون ہیں؟اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرمائے گا:مسلمان فقرا جو میرے دیئےہوئے رزق پر قناعت کرتے اور تقدیر پر راضی تھے،انہیں جنَّت میں لے جاؤ۔چنانچہ فقرا اور نادار لوگ جنَّت میں داخل ہوکر کھائیں پئیں گے جبکہ مال دار لوگ حساب وکتاب دینے میں مصروف ہوں گے۔(2)
	یہ وہ روایات ہیں جو’’قانع‘‘اور’’راضی‘‘فقراکے بارے میں واردہوئی ہیں جبکہ’’زاہد‘‘کے فضائل ہم’’فقر وزہد‘‘کے دوسرے حصے میں بیان کریں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ
رِضا اور قَناعَت کے فضائل
	رضا اور قناعت کے بارے میں منقول کثیرروایات مروی ہیں اوریہ بات ظاہر ہے کہ قناعت کی ضد لالچ ہے۔
فقر اور مال داری:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:لالچ فقر ہے  اور لوگوں سے مایوس ہوجانا مال داری  ہے،جو شخص لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے مایوس ہوگیا اور قناعت اختیار کی تو وہ لوگو ں سے بے نیاز ہوگیا۔
فَرِشتے کی پُکار:
	حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:ایک فِرِشتہ روزانہ عرش کے نیچے سےیہ ندا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… قوت القلوب،الفصل الحادی والاربعون،۲/ ۳۲۳،دون اللفظ’’ احد ‘‘
2…التذکرة للامام القرطبی، باب اوّل الناس یسبق الی  الجنة الفقراء،ص۴۵۱،باختلاف بعض الالفاظ ،  مکتبہ دارالاسلام