Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
59 - 882
میں پہنچانے والا وسیلہ علم و معرفت ہے۔ معرفت جتنی زیادہ ہوگی قرب بھی اتنا زیادہ حاصل ہوگا اور جہالت جتنی زیادہ ہوگی دوری بھی اسی قدرزیادہ ہوگی۔ وہ جہالت جسے کفر کہا جاتا ہے اس کی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بےخوفی اور اس کی رحمت سے مایوسی جیسے گناہ جنم لیتے ہیں اور یہ بھی عین جہالت ہیں کیونکہ جسے رب تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو اس سے یہ مُتَصَوَّر نہیں کہ وہ باری تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف یا اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ یہی جہالت ان ساری بدعتوں کا پیش خیمہ ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے اَفعال سے تعلُّق رکھتی ہیں۔ ان میں سے بعض بعض سے زیادہ سخت ہیں۔
	جہالت کی کمی بیشی کے اعتبارسے اور ذاتِ باری تعالیٰ، اس کے افعال، اس کے احکام اور اس کے اَوَامر ونَواہی اور دیگر بے شمار دَرَجات کے لحاظ سے یہ بِدْعات باہَم مختلف ہیں اور ان بِدعتوں کی تین قسمیں ہیں:(۱)جن کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ قرآنِ مجید میں بیان کردہ کبیرہ گناہوں کے تحت داخل ہیں (۲)جن کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ ان کبائر کے تحت داخل نہیں اور (۳)وہ  جن کے بارے میں شک ہے اور اس شک کودور کرنے کی کوشش پوری نہ ہونے والی خواہش ہے۔
دوسرا درجہ:
	اس کا تعلق نفوس یعنی بندوں کی جانوں سے ہے کہ ان کی بقا اور حفاظت سے زندگی برقرار رہتی ہے اور معرفت خداوندی حاصل ہوتی ہے،لہٰذا کسی جان کا قتل اگرچہ کفر سے کم ہے مگر کبیرہ گناہ ضرور ہے۔ کفر عیْنِ مقصود کو فوت کرتا ہے اور یہ مقصود تک پہنچانے والے وسیلہ کو ختم کردیتا ہے کیونکہ دنیاوی زندگی کا مقصود آخرت ہی ہے اور اس تک پہنچنے کا ذریعہ معرفَتِ الٰہی  ہے۔ پھر اس کبیرہ(قتل) کے تحت انسانی اعضاء کا کاٹنا اور ہلاکت میں ڈالنے والا ہرفعل داخل ہے حتّٰی کہ ہاتھوں سے مارپیٹ کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ ان گناہوں میں بھی بعض بعض سے بڑے ہیں۔ زنا اور لواطت (مرد سے بدفعلی) کا حرام ہونا اسی دَرَجہ میں آتا ہے کیونکہ اگر لوگ صرف مردوں سے شہوت پوری کرنے پر متفق ہوجائیں تو نسل انسانی مُنْقَطَع ہوجائے۔ وجود (نطفہ) کو ضائع کرنا وجودِ ہستی کو ختم کرنے کے مترادف ہے جبکہ زنا اصل وجود کو تو خَتم نہیں کرتا مگر نسب کو خراب کردیتا، وراثت اور باہمی مدد اور ان تمام امور کو باطل کردیتا ہے جن کے بنا نظامِ زندگی نہیں چل سکتا۔