کے مفہومِ مخالف سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ فقیر جسے ہم نے’’حریص‘‘ کا نام دیا تھا اسے اپنے فقر کا ثواب حاصل نہ ہوگااگر چہ فقر کی فضیلت میں وارد مطلق روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسے ثواب ملے گا جیسا کہ آگے چل کر اس کی تحقیق کی جائے گی۔
غالباًدوسری حدیْثِ پاک میں عدمِ رِضاسے مراد یہ ہے کہ بندہ اس بات کو ناپسند کرے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے فقیر بنایاہے اور یہی ناپسندیدگی فقر کے ثواب کو ضائع کردیتی ہےورنہ مال میں رغبت رکھنے والے کئی افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دل میںاللہعَزَّ وَجَلَّ کے افعال پر انکار یا انہیں برا جاننے کا خیال تک نہیں آتا۔
جنت کی چابی:
(3)…اِنَّ لِكُلِّ شَىْءٍ مِفْتَاحًاوَّمِفْتَاحُ الْجَــنَّةِ حُبُّ الْمَسَاكِيْنِ وَالْـفُقَرَآءِ لِصَبْرِهِمْ، هُمْ جُلَسَآءُ اللہ تَعَالٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِیعنی بے شک ہر چیز کی ایک چابی ہوتی ہے اور جنت کی چابی مساکین اور فُقَراسے ان کے صَبْر کی وجہ سےمحبت کرنا ہے۔یہ لوگ قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےقرب میں ہوں گے۔(1)
اللہعَزَّ وَجَلَّکا پسندیدہ بندہ:
(4)…اَحَبُّ الْعِبَادِ اِلَى اللہ تَعَالَى الْـفَقِيْرُ الْـقَانِعُ بِرِزْقِهِ الرَّاضِى عَنِ اللہ تَعَالٰىیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے پسندیدہ بندہ وہ فقیر ہے جو اپنی روزی پر قناعت اختیار کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے راضی رہے۔(2)
دعائے مصطفٰے:
(5)…اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ قُوْتَ اٰلِ مُحَمَّدٍكَفَافًایعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!آلِ محمد کو بقدرِکفايت رِزق عطا فرما۔(3)
(6)…مَا مِنْ اَحَدٍ غَنِىٍّ وَّلَا فَقِيْرٍ اِلَّا وَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَنَّهٗ اُوْتِىَ قُوْتًافِى الدُّنْيَایعنی قیامت کے دن ہرشخص چاہےامیرہو یا غریب اس بات کی تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں صرف بقدرِ کفایت روزی دی جاتی۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…فردوس الاخبار،۲/ ۱۹۱،حدیث:۵۰۲۹، بتغیر قلیل
2… قوت القلوب،الفصل الحادی والاربعون،۲/ ۳۲۶
3…مسلم، کتاب الزھدوالرقائق، ص۱۵۸۸، الحدیث:۲۹۶۹، بتغیر قلیل
4… سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب القناعة،۴/ ۴۴۲،الحدیث: ۴۱۴۰