ایک درہم کا گوشت خریدلیتیں تو اچھا ہوتا۔اس پر فرماتیں:اگر تم یاد دلادیتیں تو میں ایسا ہی کرتی۔
وصیَّتِ مصطفٰے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکووصیت کرتے ہوئےارشادفرمایا:اِنْ اَرَدْتِّ اللُّحُوْقَ بِىْ فَعَلَيْكِ بِعَيْشِ الْـفُقَرَآءِ وَاِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْاَغْنِيَآءِوَلَا تَنْزَعِىْ دَرْعَكِ حَتّٰى تَرْقَعِيْهٖیعنی اگرجنَّت میں میرا قرب پانا چاہتی ہوتوتم پر فُقَرا والی زندگی گزارنا لازم ہے، امیروں کی صحبت سےبچتی رہنااورپرانےدوپٹے کو پہننا اس وقت تک ترک نہ کرناجب تک اس میں پیوند نہ لگالو۔(1)
ایک شخص نے حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکی خدمت میں10ہزاردرہم پیش کئے۔آپ نے قبول کرنے سے انکار فرمایا تو اس نے اصرار کیا،اس پر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں10ہزار درہم کے بدلے فقرا کے دفتر سے اپنا نام مٹادوں؟میں ایساکبھی نہیں کروں گا۔
تیسری فصل: مخصوص یعنی راضی،قانع اور صادق
فُقَراکی فضیلت کا بیان
فقر اور فقرا کے فضائل پر مشتمل آٹھ فرامین مصطفٰے:
(1)…طُوْبٰى لِمَنْ هُدِىَ اِلَى الْاِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهٗ كَفَافًاوَّقَـنَـعَ بِهٖیعنی اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جسے اسلام کی طرف ہدایت حاصل ہوئی،اس کی روزی بقدرِ کفایت ہے اور وہ اس پر قناعت کرتا ہے۔(2)
(2)…يَامَعْشَرَالْـفُقَرَآءِاُعْطُوْااللہ الرِّضَا مِنْ قُلُوْبِكُمْ تَظْفَرُوْا بِثَوَابِ فَقْرِكُمْ وَاِلَّا فَلَایعنی اےفقراکے گروہ!دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقسیم پر راضی رہوگے تو اپنے فقر کا ثواب پاؤ گے ورنہ نہیں۔(3)
پہلی حدیث میں قانع فقیر کا ذکر تھا جبکہ دوسری روایت میں راضی کا بیان ہے(4)۔دوسری حدیْثِ پاک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب اللباس، باب ماجاءفی ترقیع الثوب،۳/ ۳۰۲،حدیث:۱۷۸۷،بتغیر
2…سنن الترمذی، کتاب الزہد، باب ماجاءفی الکفاف و الصبر علیہ،۴/ ۱۵۶،حدیث:۲۳۵۶،دون ’’بہ ‘‘
3…فردوس الاخبار،۲/ ۴۷۵،حدیث:۸۲۴۲
4…قانع اور راضی کی تعریف صفحہ563پرملاحظہ فرمائیں۔