Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
587 - 882
 کامیاب ہوجاتا اور اگر باطن میںاللہعَزَّ  وَجَلَّ  سے اتنا ڈرتا جتنا ظاہر میں مخلوق سے ڈرتا ہے  تو دونوں جہاں کی سعادت مندی حاصل کرلیتا۔
غربت کے باعث کسی کی توہین کرنا کیسا؟
(6)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:جو مال داری کے سبب کسی کی عزت کرے اور غربت کی وجہ سے کسی کی توہین کرے وہ مَلْعُوْن(یعنی رحمَتِ الٰہی سے دور)ہے۔
بوسیدہ لباس والے کو حقیر نہ سمجھو:
(7)…حضرت سیِّدُنالُقْمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے سےفرمایا:اے بیٹے!کسی شخص کے بوسیدہ (پھٹے پرانے) لباس کے سبب اسے حقیر نہ سمجھنا کیونکہ تمہارا اور اس کا ربعَزَّ  وَجَلَّ ایک ہی ہے۔
منافقین کی نشانی:
(8)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذرازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:غریبوں سے محبت کرنا انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کاطریقہ ہے،ان کی صحبت  کو ترجیح دینا نیک بندوں کی علامت ہے جبکہ ان کے قُرب سے دور بھاگنا منافقین کی نشانی ہے۔
	آسمانی کتابوں میں منقول ہے کہاللہعَزَّ  وَجَلَّ نے ایک نبیعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی:آپ اس بات سے ڈرتے رہیں کہ میں آپ سے ناراض ہوجاؤں،میرے نزدیک آپ کا رتبہ کم ہوجائے اور میں آپ پر دنیا انڈیل دوں۔
سیِّدتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَاکی شانِ سخاوت:
	بعض اوقات حضرت سیِّدُناامیرمُعاوِیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاورحضرت سیِّدُناعبداللہبن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بطور نذرانہ پیش کرتے تو آپ انہیں ایک ہی دن میں تقسیم فرمادیتیں جبکہ آپ کا حال یہ ہوتا کہ مبارک دوپٹے پر پیوند لگے ہو تےاور آپ روزہ دار ہوتیں۔آپ کی باندی عرض کرتی کہ اگر آپ اِفطار کے لئے