اسے پھاڑا،اس کی تھیلیاں بنائیں اور ان میں درہم ڈال کر تقسیم فرمادئیے۔پھرکھڑے ہوکر صبح تک نماز پڑھتے اورروتے رہے۔پھرفرمایا:میں نے حضورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا کہ میری اُمَّت کے فُقَرااَغْنِیا(مال داروں)سے500سال پہلے جنت میں داخل ہوں گےیہاں تک کہ ایک مال دار شخص ان(فقراکے گروہ)میں شامل ہوجائے گاتوہاتھ پکڑ کر اسےنکال دیا جائے گا۔(1)
بلا حساب وکتاب جنت میں جانے والے:
(3)…حضرت سیِّدُناابو ہُریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:تین شخص بغیرحساب وکتاب کے جنت میں داخل ہوں گے:ایک وہ آدمی جواپناکپڑادھونا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس پُرانا لباس نہیں ہے جسے پہن کر اسے دھو سکے۔دوسرا وہ شخص جس نے ایک وقت میں دو قسم کے کھانے نہ پکائے ہوں۔تیسرا وہ جو پانی طلب کرے تو اس سے یہ نہ پوچھا جائے کہ کیا پینا چاہتے ہو؟
غُرَبا سے محبت:
(4)…حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حلقَۂ درس میں ایک غریب شخص آیا تو آپ نے اُس سےفرمایا:قریب آجاؤ،اگر تم امیر ہوتے تومیں تمہیں قریب نہ کرتا۔آپ غریبوں کوخاص قُرب سے نوازتے اور امیروں سے اِتنااِعراض فرماتے کہ آپ کے اصحاب میں شامل امرا،غریب ہونے کی تمنا کرتے تھے۔
مُؤَمَّل کہتے ہیں:میں نےحضرت سیِّدُناسُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی مجلس سے زیادہ ذلیل اُمَرا کو کہیں نہیں دیکھا اور آپ کی مَحفل سے زیادہ مُعَزز غریبوں کو کہیں نہ پایا۔
دونوں کو پالیتا:
(5)…ایک دانا(عقل مند) کا قول ہے کہ بے چارہ انسان غربت سے جتنا ڈرتا ہے اگر دوزخ سے بھی اتنا ڈرتا تو دونوں سے نجات پالیتا،اگر یہ جنت کا بھی ایسا مشتاق ہوتا جتنا مال داری کا ہے تو دونوں کو پانے میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ان فقراء المھاجرین …الخ،۴/ ۱۵۸،حدیث :۲۳۶۱ ،بدون ذکرالقصة مختصرا
کنزالعمال،کتاب الزکاة من قسم الاقوال،الباب الثالث،۶/ ۲۰۳،حدیث:۱۶۶۲۱،بدون ذکرالقصة