Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
584 - 882
خاتونِ جنترَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا فقر:
	حضرت سیِّدُنا عمران بن حُصَیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:مجھے بارگاہِ رسالت میں ایک خاص مَقام حاصل تھا۔ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اے عمران!تمہیں ہمارے یہاں ایک مرتبہ حاصل ہے ،کیا تم میرے ساتھ میری بیٹی فاطمہ کی عِیادت کے لئے چلو گے؟میں نے عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!ضرور۔چنانچہ میں آپ کی مَعیَّت میں خاتونِ جنت حضرتِ سیِّدَتُنافاطمۃ الزہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر حاضرہوا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دروازہ کھٹکھٹایااورارشادفرمایا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ!کیا میں داخل ہوجاؤں؟خاتون جنترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!تشریف لے آئیے۔ارشاد فرمایا:جو میرے ساتھ ہے وہ بھی آجائے؟عرض کی:آپ کے ساتھ کون ہے؟ارشادفرمایا:عمران بن حُصَیْن ہے۔حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی:اس ذاتِ پاک کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا!میرے بدن پر صِرف ایک چادرہے۔تومُعَلِّم کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا کہ اسے اس اس طرح لپیٹ لو۔انہوں نےعرض کی:میں نے اپنا جِسم تو لپیٹ لیا ہے لیکن سر کیسے چھپاؤں؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جِسمِ اَقدس پر موجود پُرانی چادر اُتار کر ان کی طرف پھینکی اورارشاد فرمایا:اس سے سر ڈھانپ لو۔جب انہوں نے اندر آنے کی اجازت دی تو پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماندر تشریف لے گئے اور سلام کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اے بیٹی!تم نے صُبْح  کس حال میں کی؟عرض کی:اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم!میں نے اس حال میں صُبْح کی کہ درد میں مبتلا ہوں، کھانا نہ ملنےکے سبب درد میں اضافہ ہوگیا  ہےاور بھوک نے مجھے پریشان کر رکھا ہے۔یہ سن کر رحمَتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ کرم سے آنسو جاری ہوگئے اور ارشاد فرمایا: بیٹی ! گھبراؤ مت۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم!میں نے بھی تین دن سے کھانا نہیں چکھا حالانکہ میں بارگاہِ خداندی میں تم سے زیادہ مُکَرَّم ہوں۔اگر میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے سُوال کروں تو وہ مجھے ضرور کھلائے لیکن میں نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے۔خاتونِ جنَّترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے کاندھےپر ہاتھ مارکرارشادفرمایا:تمہیں خوش خبری ہو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم تم جنتی عورتوں کی سردار ہو۔ انہوں نے عرض کی:فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم