سے پہلے میں ایسے ہولناک مُعامَلات سے گزرا ہوں جو بوڑھا کردینے والے ہیں یہاں تک کہ مجھے لگا کہ میں آپ تک نہ پہنچ پاؤں گا۔میں نے پوچھا :ایسا کیوں ہوا؟عرض کی:مجھ سے میرے مال کا حساب لیا جارہا تھا۔(1)
غور کیجئے کہ یہ حضرت سیِّدُنا عبدُالرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں جنہیں پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ عظیم سبقت حاصل ہے اور یہ ان 10خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں زبانِ رسالت سے جنتی ہونے کی بِشارت حاصل ہوئی اوراُن اُمَرا میں سے بھی ہیں جن کے بارے میں مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هٰكَذَا وَهٰكَذَایعنی جو اس اس طرح مال خرچ کرے اس کےلئے مال باعِثِ ہلاکت نہیں ہے۔‘‘(2)اس کے باوُجود مال نے انہیں اس قدر نقصان پہنچایا۔
غربت کا نور:
سرکارِمکہ مکرمہ،سردارِمدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک غریب شخص کے پاس تشریف لائے، اس کے پاس کچھ نہ دیکھا تو ارشادفرمایا:لَوْ قُسِّمَ نُوْرُ هٰذَا عَلٰى اَهْلِ الْاَرْضِ لَوَسِعَهُمْیعنی اگر اس کا نور تمام زمین والوں میں تقسیم کردیا جائے تو سب کے لئے کافی ہو۔
اہل جنت کے بادشاہ:
مدینے کے تاجدار،دوعالم کے مالک و مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمُلُوْكِ اَهْلِ الْجَــنَّةِیعنی کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اہْلِ جنَّت کے بادشاہ کون ہیں؟صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ضرورارشادفرمائیے۔ارشادفرمایا:كُلُّ ضَعِيْفٍ مُّسْتَضْعَفٍ اَغْبَرَ اَشْعَثَ ذِىْ طَمَرَيْنِ لَا يُؤْبَهٗ لَهٗ لَوْاَ قْسَمَ عَلَى اللہ لَاَ بَرَّهٗیعنی کمزور، لوگوں کے نزدیک ناتواں،غبارآلود،بکھرے بالو ں اوردوبوسیدہ کپڑوں والاجس کی پروا نہ کی جائے لیکن بارگاہِ الٰہی میں اس کا یہ مقام ومرتبہ ہو کہ اگر کسی بات پروہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم کھالے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی قسم کو ضرور پورا فرمائے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندالانصار،حدیث ابی امامة الباھلی،۸/ ۲۸۹،حدیث:۲۲۲۹۵،بتغیر
2… سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب فی المکثرین ،۴/ ۴۳۷،حدیث :۴۱۳۰
3… سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب من لایؤبہ لہ ،۴/ ۴۲۹،حدیث: ۴۱۱۵، بدون اغبراشعث