فَتَنۡفَعَہُ الذِّکْرٰی ؕ﴿۴﴾ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی ۙ﴿۵﴾ فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾ (پ۳۰،عبس:۱تا۶)
یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،وہ جو بے پرواہ بنتا ہے تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو(1)۔
دنیا سے محروم شخص کا اُخروی مَقام ومرتبہ:
حضوررحمَتِ عالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:روزِ قیامت ایک بندے کو لایا جائے گا تواللہعَزَّ وَجَلَّاس سے اس طرح مَعْذِرَت فرمائے گا جیسے دنیا میں ایک شخص دوسرے سے معذرت کرتا ہے،پھرارشاد فرمائے گا:مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم!میں نے تجھ سے دنیا اس لئے دور نہیں کی تھی کہ میرے نزدیک تیری کوئی وَقْعَت نہ تھی بلکہ اس لئے دورکی تھی کہ میں نے تیرے لئے عزت اور فضیلت تیار کررکھی ہے۔اے میرے بندے !ان صفوں کی طرف جاؤاور جس شخص نے میری رِضا کے لئے تمہیں کھانا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صدرُالاَفاضل حضرت علامہ مولانا سیِّدمحمدنعیمُ الدِّین مُرادآبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتفسیرخزائن العرفان میں اس کے تحت فرماتے ہیں:نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمعُتْبـَہ بن رَبِیْعَہ،ابوجَہْل بن ہِشام اور عَبّاس بن عبدُالْمُطَّلِب اور اُبَی بن خَلَف اور اُمَیَّہ بن خَلَف اَشرافِ قُریش کو اسلام کی دعوت فرمارہے تھےاس درمیان عبداللہابن اُمِّ مکتوم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نابیناحاضر ہوئے اور انہوں نے نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکو باربار ندا کرکے عرض کیا کہ جواللہتعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے مجھے تعلیم فرمائیے! ابن اُمِّ مکتوم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے یہ نہ سمجھا کہ حضور دوسروں سے گفتگو فرما رہے ہیں،اس سے قطع کلام ہوگا۔یہ بات حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکو گراں گزری اور آثارناگواری چہرۂ اقدس پر نمایاں ہوئےاور حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّماپنی دولت سرائے اقدس کی طرف واپس ہوئے۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور’’نابینا‘‘فرمانے میں عبداللہ بن اُمِّ مکتوم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی معذوری کی طرف اشارہ کہ قطع کلام ان سے اس وجہ سے واقع ہوا۔اس آیت کے نُزول کے بعد سیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمعبداللہ بن اُمِّ مکتوم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کا اِکرام فرماتے تھے۔
مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیرنورالعرفان میں اس کے تحت فرماتے ہیں:غائب کا صیغہ فرمانے میں انتہائی محبوبیت کا اِظہار ہے،یعنی ہمارے ایک محبوب ہیں جو اپنے غلام سے ناراض ہوگئے۔خیال رہے کہ یہاں کوتاہی حضرت عبداللہ بن اُمِّ مکتوم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی تھی کہ درمِیانِ کلام سُوال عرض کردیا،یہ آدابِ مجلس کے خِلاف تھا۔حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی کبیدگی خاطر بالکل حق تھی ،مگر عشاق آداب سے بے خبر ہوتے ہیں،ان کے ایسے قصور مُعافی کے لائق ہیں،اس لئے انہیں نابینافرمایا،یعنی جو آپ کے عشق میں آداب سے نابینا ہے،رب(عَزَّ وَجَلَّ)نے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے عاشق کی طرف داری فرمائی اس میں بھی حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)ہی کی شان کا اِظہار ہےکہ ان کے عاشق کی غَلَطِیاں مُعاف ہیں۔