Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
58 - 882
	مطلب یہ کہ جنوں اور آدمیوں کو اسی لئے بنایا کہ وہ میرے بندے بنیں اور بندہ اس وقت تک بندہ نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے رب کو رَبُوبِیَّت(یعنی رب ہونے) اور خود کو عبودیت(یعنی بندہ ہونے) کے لحاظ سے پہچان نہ لے۔ اس پر لازم ہے کہ اپنی ذات اور اپنے رب تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے۔ حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تشریف آوری کا سب سے بڑا مقصد بھی یہی ہوتا ہے اور یہ مقصد صرف دنیا کی  زندگی ہی میں پورا ہوسکتا ہے۔حُضورسیِّدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالی کا یہی معنی ہے:”اَلدُّنْیَـا مَزْرَعَةُ الْاٰخِرَة یعنی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔“(1)لہٰذا دین کے تابع ہونے کے اعتبار سے دنیاکی حفاظت بھی مقصود میں شامل ہوگئی  کیونکہ یہ آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ ووسیلہ ہے۔
	دنیا کی دو چیزیں آخرت کے ساتھ تعلّق رکھتی ہیں:(۱)جان اور (۲)مال۔ تو ہر وہ عمل جو مَعْرِفَت الٰہی کا دروازہ بند کردے وہ سب سے بڑا گناہ ہے، اس کے بعد وہ جو حیاتِ انسانی میں خلل انداز ہو اور اس کے بعد وہ ہے جو معیشت کا دروازہ بند کردے جس کے ساتھ انسانی زندگی جُڑی ہوئی ہے۔ یہ تین مراتب ہوئے۔ معلوم ہوا کہ تمام شریعتوں میں دلوں پر معرفت، اَبدان واَجسام پر حیات اور اَشخاص پر اَموال کی حفاظت ضروری رہی ہے۔ یہ وہ تین باتیں ہیں کہ ان میں مختلف امتوں کے درمِیان اختلاف کا تَصَوُّر نہیں کیا جاسکتا، لہٰذایہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مخلوق کی دینی ودنیاوی اصلاح کا ارادہ فرماکر کسی نبی کو مبعوث فرمائے اور پھر انہیں ایسی چیز کا حکم فرمائے جو رب تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی معرفت وپہچان سے رُکاوَٹ بن جائے یا انہیں جان ومال کو ہلاک کرنے کا حکم فرمائے۔
کبیرہ گناہ کے تین دَرَجے:
	مذکورہ گفتگو کاحاصل یہ ہے کہ کبیرگناہوں کے تین درجے ہیں۔
پہلا دَرَجہ:
	وہ کبیرہ گناہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسولوں کی مَعْرِفَت میں رُکاوٹ ہووہ کفر ہے۔ کفر سے بڑا گناہ کوئی نہیں کیونکہ باری تعالیٰ اور بندے کے درمِیان رکاوٹ جہالت ہی ہے اور بندے کو رب تعالیٰ کے قرب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المقاصدالحسنة،حرف الدال المھملة،ص۲۲۵،حدیث:۴۹۷