Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
579 - 882
 مراد ہے؟ارشاد فرمایا:لَمْ يَتْرُكْ لَهٗ اَهْلًا وَّلَا مَالًا یعنی اس کے لئے نہ اَہْل وعِیال چھوڑتا ہے نہ مال۔(1)
مال داری گناہوں کی سزا ہے:
	منقول ہے:جب تم فقر کو آتے دیکھو تو یوں کہوکہ نیک لوگوں کے شِعار کوخوش آمدیداورجب مال داری کو آتے دیکھو تو یہ کہو کہ یہ کسی گناہ کی جلد ملنے والی سزا ہے۔(2)
اللہعَزَّ  وَجَلَّکے پسندیدہ بندے: 
	حضرت سیِّدُناموسٰیکَلِیْماللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:یااللہعَزَّ  وَجَلَّ! مخلوق میں سے تیرے پسندیدہ بندے کون ہیں کہ میں تیری خاطر انہیں دوست رکھوں؟ارشادفرمایا: ہر فقیر فقیر۔
اس روایت میں لفظ فقیردوبار آیا ہے اس کی دووجہیں ہوسکتی ہیں:یاتو تاکید کےلئے ہے یا سخت مصیبت زدہ شخص مراد ہے۔
سیِّدُناعیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا پسندیدہ نام:
	حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشادفرمایا:میں مسکینی کو پسند کرتااور مال و دولت کو بُراجانتا ہوں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو سب ناموں سے زیادہ یہ پسند تھا کہ آپ کو مسکین کہہ کر پکارا جائے۔
فقرا صحابَۂ  کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اعزاز:
	عرب کے سرداروں اور مال دار لوگوں مثلاً:اَقْرَع بن حابِس تَمِیْمِی،عُیَیْنَہ بن حِصْن فَزارِی اور عباس بن مِرداس سُلَمِی وغیرہ نے غم گُسارآقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں عرض کی کہ آپ ایک دن ہمارے لئے مقرر فرما دیں اور ایک دن اپنے صحابہ کے لئے تاکہ ہم اپنے مقررہ دن میں حاضر ہوں اور وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کنزالعمال، حرف الفاء ، کتاب الفراسة،۱۱/ ۴۶،حدیث:۳۰۷۹۰،’’ولدًا ‘‘یبدل’’اہلًا‘‘
	النھایة،باب القاف مع النون،۴/ ۱۰۲
	الاحاد والمثانی لابن ابی عاصم،۴/ ۴۴۵،حدیث:۲۴۹۹،مطبوعة دارالرایة ریاض۱۴۱۱ھ   
2…تفسیر قرطبی، پ ۷، سورة الانعام ، تحت الایة:۴۴،۳/ ۲۶۵