Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
577 - 882
حکایت:دو شکاری
	حضرت سیِّدُنا عَطاء خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:ایک نبیعَلَیْہِ السَّلَامدریاکے کنارے سے گزرے تو انہوں نے مُلاحَظہ فرمایا کہ ایک شخص مچھلی کا شکار کررہا ہے،اس نے بِسْمِ اللہ کہہ کر دریا میں جال پھینکا لیکن کوئی مچھلی نہ آئی۔ایک اور شکاری کے پاس سے گزرے،اس نے بِسْمِ الشَّیْطَان کہہ کر جال ڈالا تو اتنی زیادہ مچھلیاں نکلیں کہ اُن کا وزن کرنا مشکل ہوگیا۔نبی عَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: یااللہعَزَّ  وَجَلَّ! میں یہ تو جانتا ہوں کہ یہ سب کچھ تیری طرف سے ہے لیکن اس کی حکمت جاننا چاہتا ہوں۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فَرِشتوں سے ارشادفرمایا:میرے بندے کو ان دونوں کا اُخروی مقام دکھاؤ۔جب انہوں نے بِسْمِ اللہپڑھ کرجال ڈالنے والے کے لئے تیار شدہ عزت ومرتبہ اور بِسْمِ الشَّیْطَانپڑھ کر جال ڈالنے والے کے لئے ذِلَّت ورُسوائی مُلاحَظہ فرمائی تو عرض گزار ہوئے:اے ربعَزَّ  وَجَلَّ !میں راضی ہوں۔ 
جنّت میں فقرا کی کثرت ہوگی:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اِطَّلَعْتُ فِى الْجَـنَّةِ فَرَأَيْتُ اَكْثَرَاَهْلِهَاالْـفُقَرَآءُ وَاطَّلَعْتُ فِى النَّارِ فَرَأَيْتُ اَكْثَرَاَهْلِهَاالْاَغْنِيَآءُ وَالنِّسَآءیعنی میں نے جنت میں جھانکا تو وہاں زیادہ ترغریب لوگ دیکھےاور دوزخ مُلاحَظہ کی تو وہاں مال داروں اور عورتوں کو زیادہ پایا۔(1)
	ایک رِوایت میں ہے،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں:میں نے پوچھا:اَیْنَ الْاَغْنِيَآء یعنی مال دار لوگ کہاں ہیں؟توبتایا گیا:حَبَسَهُمُ الْجَدُّ یعنی انہیں ان کی مال دار ی نےروک رکھا ہے۔(2)
	ایک روایت میں ہے کہ میں نے دوزخ میں عورتوں کی کثرت دیکھ کرسبَب  پوچھاتوبتایاگیا:شَغَلَهُنَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری ، کتاب بدء الخلق، باب : ماجاء فی صفة الجنة وانھا مخلوقة،۲/ ۳۹۰،حدیث:۳۲۴۱ ،دون ذکرالاغنیاء
	المسندللامام  احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمرو بن عاص،۲/ ۵۸۲،حدیث:۶۶۲۲
2… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون ،۱/ ۴۰۴
	المسندللامام  احمد بن حنبل، مسندالانصار،حدیث ابی امامة الباھلی،۸/ ۲۸۹،حدیث:۲۲۲۹۵،بتغیر