جس کا کوئی مال نہ ہواوراسے وہی جمع کرتا ہے جسے عَقْل نہ ہو۔(1)حضرت سیِّدُناجبرائیلعَلَیْہِ السَّلَام نےعرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہعَزَّ وَجَلَّ آپ کوحق بات پر ثابت قدم رکھے۔
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک مرتبہ دورانِ سَفَرایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو چادراوڑھے سورہا تھا۔آپ نے اسے جَگا کر ارشاد فرمایا:اے سونے والے!اٹھو اوراللہعَزَّ وَجَلَّ کا ذِکر کرو۔اس نے عرض کی!آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟میں نے دنیا کو دنیا والوں کے لئے چھوڑ دیا ہے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:اے دوست!اگر ایسا ہے تو پھر سوجاؤ۔
اللہعَزَّ وَجَلَّ کی نظرِ رحمت کی نشانی:
حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو سر کے نیچے پتھررکھے زمین پر سورہا تھا،اس کا چہرہ اور داڑھی گَرد آلود تھے اوروہ چادراوڑھے ہوئے تھا۔آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:یااللہعَزَّ وَجَلَّ!تیرا یہ بندہ دنیا میں ضائع ہو گیا ہے۔اللہعَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی طرف وحی فرمائی:اے موسٰی!کیا آپ نہیں جانتے کہ جب میں اپنے بندے کی طرف کامل طور پر نظَرِ رحمت کرتا ہوں تو دنیا کو اس سےمکمل طور پر دور کردیتا ہوں۔
قرض لے کر مہمان نوازی فرمائی:
حضرت سیِّدُناابورافِعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ رحمَتِ عالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ایک مہمان حاضرہوالیکن گھر میں کوئی ایسی چیزموجودنہ تھی جس سے اس کی مہمان نوازی کی جاتی۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھےایک یہودی کے پاس بھیجااورفرمایا:اس سے کہو کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتم سے فرماتے ہیں کہ رجب کے چاند تک مجھے آٹا قرض دیدویا بیچ دو۔یہودی نے جواب دیا: بخدا!میں تو صرف کوئی چیز گِروی رکھ کر ہی آٹا دوں گا۔جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواس بات کی خبر دی تو آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں آسمان والوں کےنزدیک بھی امین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ا لسیدة عائشة،۹/ ۳۴۳،حدیث:۲۴۴۷۳،دون ’’یا جبرائیل ان‘‘