انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکےچندخصائص:
٭…انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماللہعَزَّ وَجَلَّ کی ذات و صِفات،فَرِشتوں اور آخرت سے متعلِّق باتوں کی حقیقت جانتے ہیں لیکن ان کا جاننا دیگر لوگوں کے جاننے کی طرح نہیں ہوتا بلکہ معلومات کی کثرت،یقین کی زیادتی اور تحقیق و کَشْف کا فرق ہوتا ہے۔
٭…ان حضرات کو خِلافِ عادت اَفعال(یعنی معجزات)ظاہر کرنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے جیسے ہمیں یہ قوت حاصل ہوتی ہے کہ ہم اپنے اِرادہ و اِختیار سے کوئی حرکت کرسکتے ہیں،اسی قوت کو قدرت بھی کہا جاتا ہے اگرچہ یہ قدرت اور اس سے کیا جانے والا فعل دونوںاللہعَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہوتے ہیں۔
٭…انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ فَرِشتوں کا مُشاہَدہ فرماتے اور انہیں ان کی اصل صورت میں دیکھ لیتے ہیں جیسا کہ ایک بینا شخص اپنی بینائی کی بدولت نابینا سے ممتاز ہوتا ہےاورنظر آنے کے قابل چیزوں کو دیکھ لیتا ہے۔
٭…ان نُفُوسِ قُدسِیَّہ کو مِنْ جَانِبِاللہ(اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے)ایک ایسی صِفَت عطا ہوتی ہے جس کے ذریعے خواب یا بیداری کے عالَم میں یہ عُلُومِ غیبیہ جان لیتے ہیں،اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس خداداد صِفَت کی بدولت یہ حضرات لوحِ محفوظ کا مطالعہ فرماتے ہیں اور اس میں موجود غیبی علوم ان پر منکشف ہوجاتے ہیں۔
یہ وہ صِفات و کمالات ہیں جن کا انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص ہونا ظاہر ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی کئی اَقسام بن سکتی ہیں۔ہم ان صفات کی40،50یا60اقسام بھی کرسکتے ہیں اور بتکلُّف انہیں46 قسموں میں بھی تقسیم کرسکتے ہیں تاکہ اچھا خواب اس مجموعے کا ایک حصہ بن جائے،لیکن ممکنہ تقسیم کے کئی طریقوں میں سے ایک کو متعین کردینا صرف اندازے سے ہوسکتا ہے اور ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ سرکارِ نامَدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسی تقسیم کے اعتبار سے سچے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا ہے۔ہم اتنا تو جانتے ہیں کہ وہ کون سی صِفات ہیں جن کے مجموعے سے نبوت کی تکمیل ہوتی ہے اور ان صِفات کی اقسام کون سی ہیں لیکن اس سے یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس مخصوص مقدار میں کیا حکمت پوشید ہ ہے۔یونہی ہم یہ بات تو جانتے ہیں کہ فُقَرا کے کئی