(4)…يَدْخُلُ فُقَرَآءُ اُمَّتِى الْجَـنَّةَ قَبْلَ اَغْنِيَآئِهَا بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍیعنی میری اُمَّت کے فُقَرا امیروں سے500سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔(1)
ایک روایت میںبِاَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًاہے یعنی فُقَرا امیروں سے 40 سال پہلے جنت میں جائیں گے۔(2)
40سال والی رِوایت سے مُراد یہ ہے کہ لا لچی فقیر حریص مال دار سے 40 سال پہلے جنت میں داخل ہوگا جبکہ 500سال والی روایت میں دنیا سے بے رغبت فقیر کا دنیا میں راغب امیر سے پہلے جنت میں جانا مذکور ہے۔
ماقبل بیان کئے گئے فقر کے درجات سےفُقَرا کے دَرَجات کا فَرق بھی سمجھ آتا ہے۔زاہد فقیر کے25 دَرَجات کی بَنِسْبَت لالچی فقیرکے دودَرَجے ہیں کیونکہ40اور500کے درمِیان یہی نِسْبَت ہے ۔
وہ زباں جس کی ہر بات وحِیِ خُدا:
یہ بات ذِہن نشین رکھنی چاہئے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والی مقدار یونہی اتفاقاً نہیں نکلتی بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصرف حق بات کے ساتھ کلام فرماتے ہیں کیونکہ آپ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے بلکہ آپ کاہر کلام وحِیِ خداوندی پر مشتمل ہوتا ہے،یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ ایک روایت میں فرمایا گیا:اَ لرُّؤْيَاالصَّالِحَــةُجُزْءٌ مِّنْ سِتَّةٍ وَّاَرْبَعِيْنَ جُزْءًامِّنَ النُّبُوَّةِیعنی اچھا خواب نبوت کا چھیالیسوں حصہ ہے۔(3)
بلاشُبَہ یہ ایک حقیقی مقدار ہے لیکن حضورسیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علاوہ کسی اور میں یہ صلاحیت نہیں کہ اس مقدار کی وجہ جان سکے،صرف اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے لیکن حقیقت کا ادراک نہیں ہوسکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت ایک ایسا وصف ہےجو انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص ہے جس کی وجہ سے یہ دیگر لوگوں سے مُمتاز ہوتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء ان فقراء المھاجرین…الخ،۴/ ۱۵۸،حدیث :۲۳۶۰، دون اللفظ ’’امتی‘‘
2…مسلم،کتاب الزھد والرقائق، ص ۱۵۹۱،حدیث:۲۹۷۹
سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء ان فقراء المھاجرین یدخلون الجنة قبل اغنیا ئھم،۴/ ۱۵۷،حدیث:۲۳۵۹
3…بخاری، کتاب التعبیر، باب الرؤیاالصالحة جزء من ستة واربعین جزء من النبوة،۴/ ۴۰۴،حدیث : ۶۹۸۹