(2)…
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ ضَرْبًا فِی الۡاَرْضِ۫ (پ۳،البقرة:۲۷۳)
ترجمۂ کنز الایمان:ان فقیروں کے لئے جو راہِ خدا میں روکے گئے زمین میں چل نہیں سکتے۔
یہ دونوں آیاتِ مُقَدَّسَہ تعریف وتوصیف کے مَقام پر ذکر کی گئی ہیں اور ان حضرات کی صِفَتِ فَقر کو ان کی ہجرت اوردین کے لئے وقف ہونے کی صِفات سے پہلےبیان کیا گیا ہے جو کہ فقر کی فضیلت پر کھلی دلیل ہے۔
فقرکی فضیلت پر مشتمل نوفرامین مصطفٰے:
(1)…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ مصطفٰے جانِ رحمت،شَمْع بَزمِ ہِدایت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے استفسارفرمایا:أَیّ ُالنَّاسِ خَیْرٌیعنی لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟انہوں نےعرض کی:وہ مال دار شخص جو اپنی جان اور مال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لازم کردہ حقوق ادا کرتا رہے(یعنی بَدَنی اور مالی عبادات بجا لائے)۔ارشادفرمایا:نِعْمَ الرَّجُلُ ھٰذَا وَلَیْسَ بِہٖیعنی ایساشخص اچھا ہے لیکن میرا مقصود یہ نہیں۔ صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ہی ارشاد فرمائیے کہ سب سے اچھا شخص کون ہے؟ارشادفرمایا:فَقِیْـرٌ یُّعْطِیْ جُھْدَہٗ یعنی وہ فقیر جو اپنی استطاعت کے مطابق راہِ خدا میں خرچ کرے۔(1)
(2)…پیارے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنابلال حَبَشِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےارشاد فرمایا:اِلْقِ اللہ فَقِیْرً ا وَّلَا تَلْقَہٗ غَنِیًّـایعنیاللہعَزَّ وَجَلَّ سے فقیر ہونے کی حالت میں ملنا ،مال دار ہوکر نہ ملنا۔(2)
(3)…اِنَّ اللہ یُحِبُّ الْـفَقِیْرَ الْمُتَعَفِّفَ اَبَا الْعِیَالِیعنیاللہعَزَّ وَجَلَّاس فقیر سے محبت فرماتا ہے جو بال بچوں والا ہونے کے باوُجُود سُوال سے بچتا ہے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند ابی داود طیالسی ، باب ماروی نافع عن ابن عمر،ص۲۵۳،حدیث :۱۸۵۲، بتغیرقلیل
2…المستدرک للحاکم،کتاب الرقاق،باب الف اللہ فقیرا…الخ،۵/ ۴۵۰،حدیث:۷۹۵۷
3…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب فضل الفقراء،۴/ ۴۳۲،حدیث:۴۱۲۱