Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
570 - 882
 فقر سے پناہ اور حصولِ فقر کی دعا میں تطبیق:
	اس اِشْتِراک کو سمجھنے کے بعد ان فرامیْنِ مصطفٰےکو سمجھنے میں آسانی رہے گی:
(1)…(اَللّٰھُمَّ)اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْـفَقْرِیعنی اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!میں فقر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔(1)
(2)…کَادَ الْـفَقْرُ اَنْ یَّکُوْنَ کُفْرًایعنی قریب ہے کہ فقر کفرتک پہنچادے۔(2)
	یہ اَحادیث اِس دُعا سے مُتَصادِم نہیں ہیں:(اَللّٰھُمَّ)اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًایعنی(اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!)مجھے مسکین زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں ہی وفات عطا فرما۔(3)
	کیونکہ پہلی دونوں رِوایات میں مُضْطَرکا فقرمُراد ہے کہ اپنی بنیادی ضروریات ہی دستیاب نہ ہوں اور تیسری روایت میںاللہعَزَّ  وَجَلَّسے جس فقر کا سوال کیا گیا ہے اس سے مرادبارگاہِ الٰہی میں اپنی مسکینی، بے سروسامانی اور محتاجی کااعتراف ہے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَعَلٰى كُلِّ عَبْدٍ مُّصْطَفٰى مِنْ اَهْلِ الْاَرْضِ وَالسَّمَآءِ
 یعنیاللہعَزَّ  وَجَلَّ حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور آسمان و زمین میں ہر پسندیدہ بندے پردرودوسلام نازل فرمائے۔
دوسری فصل:			فَقْر کی عُمُومی فضیلت کا بیان
	یہاں وہ آیاتِ مُقَدَّسَہ،اَحادِیْثِ مُبارَکہ اور اَقوالِ بزرگانِ دین بیان کئے جائیں گے جو فقرِ مطلق کی فضیلت پر دلالت کرتے ہیں۔
فقر کی فضیلت پرمشتمل دوفرامین باری تعالیٰ:
(1)…  لِلْفُقَرَآءِ الْمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ وَ اَمْوَالِہِمْ  (پ۲۸،الحشر:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لئے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن ابی داود ، کتاب الوتر، باب فی الاستعاذة،۲/ ۱۳۰،حدیث:۱۵۴۴
2…شعب  الایمان، باب فی الحدیث علی ترک الغل والحسد،۵/ ۲۶۷،حدیث :۶۶۱۲
3…سنن الترمذی،  کتاب الزھد، باب ماجاء ان فقراء المھا جرین یدخلون قبل اغنیائھم،۴/ ۱۵۷،حدیث :۲۳۵۹