ممکن نہیں، یوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہو” کبیرہ گناہوں سے میری مراد دس یا پانچ گناہ ہیں“ اور ساتھ ہی ان کی تفصیل بھی بیان فرمادیتے۔ جب ایسا کچھ مروی نہیں،ایسی کوئی حدیث نہیں بلکہ بعض حدیثوں میں یہ واردہواہے کہ”تین گناہ کبیرہ ہیں۔“(1) اور بعض میں یہ آیا ہے کہ”سات گناہ کبیرہ ہیں۔“(2) پھر یہ بھی حدیث شریف میں واردہے کہ ”ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دینا کبیرہ گناہ ہے۔“(3) اور یہ اُن سات اور تین سے الگ ہے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان فرامین سے کسی خاص عدد کا ارادہ نہیں فرمایا۔ تو جس عددکو شریعت نے بیان نہیں فرمایا اس کی خواہش وجستجوکیسے کی جاسکتی ہے؟ عین ممکن ہے اسے مبہم چھوڑنے سے شریعت کا مقصد یہ ہوکہ لوگ اس معاملے میں خوف زدہ رہیں(اور ہر گناہ سے بچیں) جیساکہ شَبِّ قَدَر کو مُبَہَم وپوشیدہ رکھا تاکہ اس کی طلب میں لوگ خوب کوشش کریں۔
کبیرہ گناہوں کی پہچان کا طریقہ:
ہمارے پاس ایک طریقہ ہے جس سے ہم کبیرہ گناہوں کی اَجناس و اَنواع کوتحقیق کے ساتھ پہچان سکتے ہیں۔ البتہ! ان کی حقیقتوں کو ہم صرف گمان اور اندازے سے پہچان سکتے ہیں نیز یہ کہ ہم اَکْبَرُ الْکَبَآئِر یعنی سب سے بڑے گناہ کو بھی پہچان سکتے ہیں مگر اَصْغَرُالصَّغَآئِر یعنی سب سے چھوٹے گناہ کو پہچاننے کا کوئی طریقہ نہیں۔
اس اجمالی گفتگو کی تفصیل یہ ہے کہ ہم شرعی دلائل اور انوارِ بصیرت دونوں کے ذریعے جانتے ہیں کہ تمام شریعتوں کا مقصد مخلوق کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جوارِرحمت اورقُرب میں پہنچانا اور اس سے ملاقات کی سعادت دلوانا ہے اور اس مقصد کا حصول اللہ عَزَّ وَجَلَّ، اس کی صفات، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کی مَعْرِفَت ہی سے ممکن ہے۔ درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ میں اسی طرف اشارہ ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ (پ۲۷،الذٰریٰت:۵۶) ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی) لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب الایمان،باب الکبائرواکبرھا،ص۵۹،حدیث:۸۷
2…الادب المفرد،باب الاعرابیة،ص۱۶۴،حدیث:۵۹۰
3… سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الغیبة ،۴/ ۳۵۳،حدیث : ۴۸۷۷