دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکو یہ واقعہ سنایاکہ حضرت سیِّدُنا مالِک بن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے حضرت سیِّدُنا مُغِیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے فرمایا:’’آپ گھر کے اندر جاکروہ برتن لے لیں جو آپ نے مجھےتحفے میں دیا تھا کیونکہ شیطان مجھےیہ وسوسہ ڈالتاہے کہ اُسے چور لے گیا ہے۔‘‘یہ واقعہ سن کرحضرت سیِّدُنا ابوسُلَیْمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے فرمایا:یہ صوفیا کے دلوں کی کمزوری ہے،اگر انہوں نے دنیا سے بے رغبتی کو اختیار کرلیاتھا تو پھر برتن کے چوری ہونے میں ان کا کوئی نقصان نہیں تھا۔
حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے اِس بات کو بیان فرمایا ہےکہ گھر میں برتن كی موجودگی کو ناپسند کرنےمیں بھی اس كی طرف متوجہ ہونا پایا جارہا ہے اور اِس کا سبَب تصوُّف کے مُعامَلے میں کمزوری اور کمی ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر یہ کہا جائے کہ آپ ان انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ السَّلَام اوراَولیائے عِظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے بارے میں کیا فرمائیں گےجنہوں نے مال سے دوری اختیار کی اور اس سے شدید نفر ت کرتے رہے؟تواس کا جواب یہ ہے کہ ان نُفُوسِ قُدْسِیہ نے اس معنیٰ میں پانی سے دوری اختیار کی کہ ضرورت سے زائد پانی نوش نہیں فرمایا اور نہ ہی اسےمَشکِیزوں میں جمع فرمایا کہ ساتھ لئے پھریں بلکہ اسےمحتاج افرادکے لئے نہروں ،کنوں اور صحراؤں میں چھوڑدیالیکن ان کے دل اس کی محبت یانفرت میں مشغول نہیں تھے۔منقول ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور پھر آپ کے بعد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصِدِّیْق اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوْقِ اَعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں زمین کے خزانے پیش کیے گئےاور انہوں نے اسے لے کر مناسب مَقام پر خرچ فرمایا،لینے سے انکار نہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک مال اور پانی،سونا اور پتھر برابر تھے۔(1)
بزرگانِ دین کے قبولِ مال سے انکار کی توجیہات:
بعض اَہْلُ اللہ سے جو مال لینے سے انکار منقول ہے اس کی چند وجوہات ہوسکتی ہیں:
٭…یہ اِنکار ایسے حضرات کی طرف سے ہےجنہیں اس بات کا خوف تھا کہ حصولِ مال کے بعد یہ مال انہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کنزالعمال،کتاب الجھادمن قسم الافعال،باب الارزاق والعطایا،۴/ ۲۴۳،حدیث:۱۱۶۶۸، مفھومًا