حضرت سیِّدُناابوسُلَیْمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:جس نے دنیا سے بے رغبتی اِختِیار کی اوراسی پراِکتفا کیا تو وہ جلد راحت چاہتا ہے،انسان کو چاہئے کہ زُہْد میں مشغول ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ ہو۔
اس قول میں یہ بیان ہے کہ سفرِ آخرت کی منازل طے کرنا زُہْد کے بعد کا دَرَجہ ہے جیسا کہ حج کے سفر کا درجہ حج کو مانع(یعنی رکاوٹ بننے والے) قرض کی ادائیگی کے بعد ہے۔
خلاصَۂ کلام:
اس تمام گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر زُہْد کا مفہوم یہ لیا جائے کہ دنیا کے ہونے نہ ہونے دونوں میں کوئی دلچسپی نہ ہو تو یہ زُہْد کا کمال دَرَجہ ہے اور اگرزُہْد سے مراددنیا کے نہ ہونے میں دلچسپی ہو تو یہ مَقام راضی،قانِع اور حریص سے اُوپرجبکہ مستغنی سےنیچےہے۔
زُہْد کا کمال دَرَجہ:
مال کے مُعامَلے میں زُہْد کا کمال دَرَجہ یہ ہے کہ بندے کے نزدیک مال اور پانی برابر ہوں، ظاہر ہے کہ کثیر پانی کا انسان کے قریب ہونا اسے نقصان نہیں دیتاجیسا کہ ساحِلِ سمندر پر رہنے والاشخص اورنہ ہی پانی کا کم ہونا ضرر دیتا ہے جبکہ بقدرِ ضرورت پانی دستیاب ہو۔پانی ایک ایسی چیز ہے جس کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے،انسان کا دل نہ تو کثیر پانی سےنفرت کرتا ہے اور نہ ہی راہِ فرار اختیار کرتا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ میں اس سے اپنی حاجت کے مطابق پیوں گا،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کو پلاؤں گا اور اس میں بخل نہیں کروں گا۔انسان کے نزدیک مال کی حالت بھی یہی ہونی چاہئےکہ اس کے ہونے نہ ہونے سے اسے کوئی فَر ق نہ پڑے ۔ جب بندے کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی مَعْرِفَت حاصل ہوجائےاور توکُّل کی دولت نصیب ہوجائےتو پھر اسے اس بات پر کامل یقین ہوجاتا ہے کہ وہ جب تک زندہ ہے اسے بقدرِ ضرورت روزی ملتی رہے گی جیسا کہ پانی ملتا ہے، عنقریب توکُّل کے بیان میں اس بات کا ذکر آئے گا اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ۔
یہ صوفیاکے دلوں کی کمزوری ہے:
حضرت سیِّدُنااِمام اَحمد بن ابوالحَوارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا ابوسُلَیْمان