Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
566 - 882
 ہوں،اگر عاشق كا دل رقیب سے نفرت اور اس کی ناپسندیدگی میں مصروف ہو تو اس وقت میں وہ معشوق کودیکھنے کی لذّت سے مَحروم رہے گا کہ اگر اس کا دل عِشْق و محبَّت میں مُسْتَغْرق ہوتا تو ہرگز کسی اور کی طرف اِلتفات نہ کرتا۔ جس طرح معشوق کی موجود گی میں کسی اور کی محبت کے باعث اس کی طرف  دیکھنا محبَّت میں شرکت اور خامی ہے یونہی نفرت کی وجہ سے  متوجہ ہونا بھی عشق کے مُعامَلے میں شرکت اور عَیب ہےلیکن دوسری صورت کی بُرائی پہلی سے کم ہے۔عشق و محبت کا کمال دَرَجہ تو یہ ہے کہ عاشق کا دل معشوق کے علاوہ کسی اور کی طرف متوجہ ہی نہ ہو، نہ تو اس کی محبت کی وجہ سے اور نہ ہی نفرت کے سبب كيونکہ جس طرح ایک دل میں ایک ہی حالت میں دو محبتیں جمع نہیں ہوسکتیں اسی طرح محبت ونفرت کا اجتماع بھی نہیں ہوسکتا،لہذا محبَّتِ دنیا میں مشغول شخص کی طرح اس سے نفرت میں مشغول انسان بھیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے غافل ہے۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ دنیاو ی محبت میں مشغول اپنی غفلت میں دوری کے راستے پر گامزن ہے جبکہ عداوتِ دنیا میں مشغول فرد قرب کا راستہ طے کررہا ہے کیونکہ اس کے بارے میں اس بات کی امید ہے کہ انجامِ کار اس کی غفلت کا اِزالہ ہوجائےاور اسے مقامِ شُہُود حاصل ہوجائےکمال  ایسے شخص کا منتظر ہوتا ہے کیونکہ عداوتِ دنیا ایک ایسی سُواری ہے جواللہعَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچاتی ہے۔
دنیا سے محبت کرنے اور عداوت رکھنے والوں کی مثال:
	دنیا سے محبت کرنےاور اس سے عداوت رکھنے والے ان دو اشخاص کی طرح ہیں جو حج کے لئےچلے لیکن راستے میں اونٹ کی سُواری،اسے ہانکنے اور چارہ دینے میں مشغول ہوگئے لیکن ان میں سے ایک کا رُخ  کَعَبَۂ مُشَرَّفہ  کی جانب ہے جبکہ دوسرا مخالف سمت میں چلا جارہا ہے۔یہ دونوں اس اعتبار سے تو برابر ہیں کہ یہ دونوں ہی مَکَّۂ مُعَظَّمَہ سے غافل ہیں لیکن جس کا منہ جانبِ کعبہ ہے وہ اس کی طرف پیٹھ کرنے والے سے بہتر ہے کیونکہ اس کے کعبۂ معظمہ تک پہنچنے کی امید ہے جبکہ وہ شخص جوکعبہ شریف(یعنی مسجدحرام)میں مُعْتکِف ہے اور اس سے باہر ہی نہیں نکلتا کہ دوبارہ اس تک پہنچنے کے لئے جانور میں مشغول ہونے کی ضرورت پڑے وہ اس سےبھی بہتر حال میں ہے،لہٰذا یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ عداوتِ دنیا بذاتِ خود مقصود ہے  بلکہ یہ بھیاللہعَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے سے رُکاوٹ کاباعِث ہے اورقُربِ باری تعالیٰ پانے کے لئے ایسی رُکاوٹوں کوعُبورکرنا لازمی ہے۔