ہونے سے بے نیاز ہو بھی تو دیگر چیزوں سے مستغنی نہیں ہےاور نہ ہی اس بات سے بے نیازہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس غَنا سے اس کے دل کو مُزَیَّن فرمایا ہے اس کی بَقاکے معاملے میں توفیْقِ باری تعالیٰ اس کی مدد کرے، کیونکہ جو دل محبَّتِ مال میں مبتلا ہے وہ درحقیقت قیدی ہے جبکہ مستغنی اس قید سے آزاد ہے اور اُسے اِس قید سے رہائیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہی عطا فرمائی ہے۔اِس آزادی کے باقی رہنے کے معاملے میں یہ محتاج ہے کیونکہ دل کی کیفیت بدلتی رہتی ہے،کبھی یہ مال و دولت کی محبَّت میں گرفتار ہوتا ہے تو کبھی اس قید سے رہائی پالیتا ہے اس لئےکہ انسان کا دلاللہ عَزَّ وَجَلَّکے قبضہ و اختیار میں ہے۔اسی وجہ سے مذکورہ فضل و کمال کے باوجود ایسے شخص پر لفظِ غنی کا اِطلاق بطورِ حقیقت نہیں بلکہ بطورِ مجاز ہوتا ہے۔
جان لو کہ زُہْد ایک ایسا دَرَجہ ہے جو نیک لوگوں کے لئے کمال ہے لیکن مذکورہ شخص (یعنی مستغنی )نہ صرف نیک بلکہ مُقَرَّبِیْن کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور بلاشُبَہ ایسے لوگوں کا مَقام زُہْد سے بھی بلند ہوتاہے،جیساکہ منقول ہے:حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِسَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِيْنیعنی نیک لوگوں کی نیکیاں مُقَرَّبِیْن کےلئے خطاکادرجہ رکھتی ہیں۔
نفرتِ دُنیا میں مشغول ہونا کیسا؟
جس طرح دنیا سے محبت کرنے والا دنیا میں مشغول ہے یونہی دنیا سے نفرت کرنے والا بھی اس میں مشغول ہے( کہ بطورِنفرت ہی سہی لیکن اس کی توجہ دنیا کی طرف ہے)۔اللہعَزَّ وَجَلَّاور بندے کے درمِیان کوئی دوری نہیں کہ دور ہونا اس سے حِجاب بنے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّتو بندے کی شَہہ رگ سےبھی زیادہ قریب ہےاور نہ ہی وہ کسی مکان میں ہے کہ آسمان و زمین بندے اور رب کے درمِیان آڑ بنیں،اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور بندے کے درمِیان صرف یہ چیز حجاب ہے کہ بندہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ کسی اور چیز میں مشغول ہوجائے۔ بندے کا اپنی ذات اور نفسانی خواہشات میں مشغول ہونا بھی غَیْرُاللہ میں مشغو ل ہونا ہے اور چونکہ انسان انہیں چیزوں میں مشغول رہتا ہے اس لئے وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حجاب میں رہتا ہے۔اپنے نفس سے محبت کرنے والا اوراس سے نفرت کرنے والادونوں ہیاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غفلت کا شکار ہیں۔
مثال:
اس كی مثال یہ ہے کہ کسی مجلس میں عاشِق ومعشوق اور رقیب(یعنی اس معشوق کا دوسرا عاشِق)تینوں موجود