Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
564 - 882
 کے نزدیک مال کا ہونا اور نہ ہونا یکساں ہو۔مال ملنے پر نہ تو خوش ہو اور نہ ہی تکلیف محسوس کرے جبکہ نہ ملنے پر بھی یہی حالت ہو بلکہ اس کی حالت ایسی ہوجائے جیسی اُمُّ المؤمنین  حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ طَیِّبَہ طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی تھی  کہ کسی نے آپ کی خدمت میں ایک لاکھ دِرْہم کا عَطِیَّہ نَذر کیا تو آپ نے قُبُول فرمالیا اور اُسی دن تقسیم فرمادیا۔خادِمہ نے عرض کی:آپ نے آج جو مال تقسیم فرمایا اگراس میں سے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو ہم اس سے روزہ افطار کرتے۔ فرمایا:اگر تم یاد دلادیتیں تو میں ایسا ہی کرتی۔(1)
	جس شخص کی کیفیت ایسی ہواگرپوری  دنیابھی اس کے قبضے میں ہو تو اسے کوئی نقصان نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ مال کو  اپنے قبضے میں نہیں بلکہاللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے خزانے میں سمجھتا ہے  اور اس کے نزدیک اس بات میں کوئی فَرق نہیں ہوتا کہ مال اس کے قبضے میں ہے یا کسی اور کے،ایسی حالت والے شخص کانام’’مستغنی‘‘رکھنا چاہیےکیونکہ وہ مال کے ہونے نہ ہونے دونوں سے بے پروا ہے۔
خالق اور مخلوق کے غنی ہونے میں فرق:
	اس نام’’مُسْتَغْنِی‘‘سے ایک ایسا معنیٰ سمجھ میں آتا ہے جس سےاللہعَزَّ  وَجَلَّکے غنی ہونے  اور مال دار بندےکے غنی ہونے میں فَرق ہوجاتا ہے۔مال دار انسان اگر مال سے خوش ہو تو وہ اپنے پا س مال باقی رہنے کے مُعامَلے میں فقیر ہے ،وہ اپنے پاس  مال کے آنے سے تو غنی ہے لیکن اپنے مال کی بَقا کے مُعامَلے میں غنی نہیں،لہٰذا وہ ایک اِعتِبار سے فقیر ہے۔جبکہ یہ شخص(جسے مستغنی کا نام دیا گیا)اپنے پا س مال آنے،مال کے اپنے قبضے میں باقی رہنے اور چلے جانے ان تمام مُعامَلات میں غنی ہےکیونکہ اسےنہ تو مال سے تکلیف ہوتی ہے کہ اُسے اپنے پاس سے نکالنے پر مجبور ہو ،نہ مال سے خوش ہوتا ہے کہ اسے اپنے پاس باقی رکھنے کی ضرورت پڑےاور نہ ہی یہ مال سے محروم ہے کہ حصولِ مال کے معاملے میں کسی کا محتاج ہو۔ مستغنی کاغَناعام ہے اور یہ اُس غَناکے زیادہ قریب ہے جواللہعَزَّ  وَجَلَّکی صِفَت ہے، بندے کو اللہعَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب صِفات کے قرب سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ مکان کے قرب سے،لیکن ہم ایسی حالت سے مُتَّصِف شخص کو غنی نہیں مستغنی کہتے ہیں تاکہ غنی کا لَفْظ اُس  ذات کے لئے باقی رہے جو کہ ہرچیز سے مطلقاً بے نیاز ہے۔یہ بندہ اگر مال کے ہونے نہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تفسیر کبیر، پ۳۰، الزلزلة ، تحت الایة:۷، ۸،۱۱/ ۲۵۷،بتغیرقلیل