سےاِسے تکلیف ہو، نیز اس کےشر اور اس میں مشغولیت سے بچنے کے لئےاُس سے راہِ فرار اختیار کرے۔ اِس حالت کا نام’’زُہْد‘‘ہے اورجس شخص میں یہ صِفَت پائی جائے اسے’’زاہد(دنیا سے بے رغبتی رکھنے والا)‘‘ کہتے ہیں۔فقیر کے پانچوں اَحوال میں سے یہ سب سے بہترین حالت ہے۔
٭…دوسری حالت:یہ ہے کہ نہ تو مال میں ایسی رغبت ہو کہ حصولِ مال پر خوشی محسوس ہو اور نہ ہی ایسی نفرت ہو کہ مال کے ملنے پر تکلیف ہو اور اسے لینے سے انکار کردے۔ایسی حالت والے شخص کو’’راضی‘‘کہا جاتا ہے۔
٭…تیسری حالت: یہ ہے کہ مال میں رغبت کی وجہ سے اس کے نزدیک مال کا ہونا، نہ ہونے کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہو لیکن یہ رغبت اس حد تک نہ پہنچی ہو کہ حصولِ مال کے لئےبھاگ دوڑ کرے بلکہ اگر بآسانی حاصل ہو توخوشی سے لے لے اور اگرحاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑے تو چھوڑ دے ۔اس حالت والے شخص کو’’قانِع‘‘کے نام سے مَوسُوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے نفس نے موجود مال پر قناعت کی اورمعمولی رغبت کے باوجود مزید مال کی طَلَب کو تَرک کردیا۔
٭…چوتھی حالت: یہ ہے کہ ایک شخص مال کی طلب نہیں کرتا لیکن اس کے طلب نہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ یہ شخص حصولِ مال پر قادر ہی نہیں ہے ورنہ اِسے مال سے ایسی محبَّت ہے کہ اگر حصولِ مال کا کوئی ذریعہ پاتا توضرورطلب کرتا اگر چہ حصولِ مال میں محنت ہی کیوں نہ کرنی پڑتی یا پھر وہ فی الحال بھی طلبِ مال میں مشغول ہے۔اس حالت والے کو ’’حریص‘‘ کہا جاتا ہے۔
٭…پانچویں حالت: یہ ہے کہ اس کے پاس جو مال نہیں یہ اس کا محتاج ہے۔مثلاً بھوکا جس کے پاس روٹی نہ ہو یا بے لباس جس کے پاس کپڑا نہ ہو،ایسی حالت والے شخص کو’’مُضْطَر‘‘ کہا جاتا ہے چاہے مال میں اِس کی رغبت کم ہو یا زیادہ، ایسی حالت میں مال کی طرف رغبت نہ ہونا بہت کم پایا جاتا ہے۔
یہ فقر کے پانچ احوال ہیں جن میں سب سے اعلیٰ زُہْد ہے اور اگر اِضطرار و زُہْد جمع ہوجائیں تو یہ زُہْد کے دَرَجات میں سب سے بلند دَرَجہ ہے جس کا بیان آگے آئےگا۔
زُہْد سےاَفضل حالت:
مذکورہ پانچ حالتوں کے علاوہ ایک چھٹی حالت بھی ہےجو کہ زُہْد سے بھی افضل ہے، وہ یہ ہے کہ بندے