Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
562 - 882
پہلی فصل:				فَقْر کی حقیقت
	فقر کا معنیٰ یہ ہے کہ جس شے کی حاجت ہے وہ موجود نہ ہو،جس چیز کی ضرورت ہی نہیں اگر وہ نہ پائی جائے تو اسے فقر نہیں کہا جاتانیزجس شخص کے پاس مطلوبہ شے موجودبھی ہو اوراس کےقابومیں بھی ہو تو ایسا شخص فقیر نہیں کہلاتا۔
	جب تم نے اس بات کو سمجھ لیا تو پھر تمہیں اس بات میں بھی شک نہیں ہونا چاہئے کہاللہعَزَّ  وَجَلَّ  کےعلاوہ ہر کوئی فقیر ہےکیونکہ وہ ہرآنے والےلمحے میں اپنا وُجُود باقی رکھنے کا محتاج ہے اور وجود کا باقی رہنا اللہعَزَّ  وَجَلَّکے فَضْل وکَرَم سے حاصل ہوتا ہے۔اگرموجودہونے کے لحاظ سے کوئی ایسی ہستی پائی جائے جس کا وُجُودکسی اور سے حاصل شدہ نہ ہوتو وہ ہستی غنیٔ مُطْلَق کہلائے گی اور ایسی ہستی ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ پس غنیٔ مطلق ہستی ایک ہی ہے اوروہ ذاتِ باری تعالیٰ ہےبَقیَّہ تمام مخلوق اپنے وجود کے لئے اس کی محتاج ہے۔اس فرمانِ باری تعالیٰ میں اسی طرف اشارہ ہے:
وَ اللہُ الْغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ ۚ (پ۲۶،محمد:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہبے نیاز ہے اور تم سب محتاج۔ 
	یہ مطلق فقرکامعنیٰ ہے لیکن ہمارا مقصودمطلق فقر کا بیان نہیں بلکہ ہم بالخصوص مال کے اعتبار سے فقر کو بیان کرنا چاہتے ہیں ورنہ اپنی ضروریات کی طرف محتاج ہونے کے اعتبار سے بندے کے فقر کی کوئی حد نہیں کیونکہ انسان کی ضروریات لا مَحدُود ہیں۔ضروریاتِ انسانی میں سے بعض وہ ہیں جن کی تکمیل مال سے ہوتی ہے اور فی الحال ہم اُنہی کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔
فقیر کی تعریف اور اس کے مختلف اَحوال:
	ہر وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو اور اسے مال کی ضرورت ہو اسے فقیرکہا جاتا ہے۔ممکنہ طور پرفقیر کے پانچ اَحوال ہوسکتے ہیں،ہم اُن اَحوال کو الگ الگ بیان کریں گے اور ہر حالت کا ایک نام بھی رکھیں گےتاکہ جب ان احوال کا حکم بیان کیا جائےتو فَرق ہوسکے کہ کون سا حکم کس حالت کے لئے ہے۔
٭…پہلی حالت: یہ ہے کہ فقیرکے پاس مال آئے تووہ نفرت کی وجہ سے اسے ناپسند کرے، اُس کےآنے