Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
561 - 882
 کے بعد جُدائی نہ ہوگی اور مرنے کے بعداللہعَزَّ  وَجَلَّکے دِیدار کی نعمت سے اس طرح سَرفراز ہوں گے کہ یہ نعمت کبھی مُنْقَطَع نہ ہوگی۔ہمارے آقا ومولیٰ،انبیاکے سردارحضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے اہْلِ بیت پر جو بہترین اہْلِ بیت ہیںاللہعَزَّ  وَجَلَّ کی سلامَتِی اور رحمت ہو۔  
	بے شک دنیا اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی دشمن ہے،کثیر لوگ اس کے دھوكےکے سبب گمراہ اوراس کےمَکْر وفَریب کے باعِث لَغْزِش کا شکار ہوتے ہیں۔اس کی محبَّت خطاؤں اور گناہوں کی جَڑاوراس سےنفرت عبادات کی بنیاد ہے۔دنیا کی حقیقت اوراس سے محبت کی مَذمَّت ہم تفصیلی طور پر مُہْلِکات کے تحت’’دنیاکی مذمت‘‘کے بیان میں ذکرکرچکے ہیں۔اس مَقام پر دُنیا سے نفرت اور اس سے بے رغبتی کی فضیلت بیان کی جائے گی کیونکہ یہ دونوں باتیں نجات دینے والے اَعمال کی بنیاد ہیں۔اُخْرَوی نجات  کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ دنیا سے دوری اختیار کرکے اس سے ناطہ توڑلیا جائے۔
دنیا سے قطع تعلق کی صورتیں:
	دُنیا سے قَطع تَعَلُّق دو طرح سے ہوتا ہے:(۱)…دنیا بندے سے دور ہوجائے،اسے فَقرکہا جاتا ہے۔ (۲)…بندہ خود دنیا سے دوری اختیار کرے، اِسے زُہْد کہتے ہیں۔
	فَقر اور زُہْد دونوں ہی سعادت مندی کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے اور آخرت میں نجات کے حصول میں مُعاوِن بنتے ہیں۔چنانچہ، ہم فقروزہد کی حقیقت،ان کےدَرَجات،اَقسام،شرائط اور اَحکام ذِکر کریں گے۔پہلے فقر اور پھر زہد کو بیان کریں گے۔
باب نمبر1:			         فَقْر کا بیا ن(اس میں نو فصلیں ہیں)
	اس میں دَرْج ذَیل اُمُور کا بیان ہے:(۱)فَقر کی حقیقت(۲)فَقر کی فضیلت(۳)فُقراکی خصوصی فضیلت (۴)فقیر کی غنی(مال دار)پر فضیلت(۵)راہِ فقر میں فقیر کے آداب (۶)عطیہ قبول کرنے کے مُعامَلے میں فقیر کےآداب(۷)بِلا حاجَتِ شرعی سُوال کی حُرمَت(۸)مال کی وہ مقدارجس کے ہوتے ہوئے سوال کرنا حرام ہے (۹)مانگنے والوں کے احوال۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّہی اپنے فَضْل وکَرَم سے دُرُستی کی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔