Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
560 - 882
فَقْر و زُہْد کا بیان(اس میں ایک مقدمہ اور دوباب  ہیں)
مُقَدَّمَہ:
	تمام تعريفيںاللہعَزَّ  وَجَلَّكےلئے ہیں ریت کے ٹیلے جس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔سائےاس كے حضورسجدہ ریز ہیں۔اس کی ہیبت سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے انسان کو بجنے اور چپکنے والی مٹی سے پیدا فرمایا،اچھی اور مُعْتَدِل شکل وصورت سے اسے زِینت بخشی،نورِ ہدایت کے ذریعے گمراہی کے اندھیروں سے اس کے دل کی حفاظت فرمائی اور نمازِ پنج گانہ کی پابندی کے ذریعے اپنی بارگاہ میں حاضری کی اجازت مَرحَمَت فرمائی۔اِخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے والوں کی باطنی نظروں کو نورِ ہدایت کے سُرمے سے مُنَوَّر فرمایا جس کی روشنی میں انہوں نے اللہعَزَّ  وَجَلَّکے انوار وتجلیات کا مُشاہَدہ کیا اور ان کے لئے ایسا نور اور روشنی ظاہر ہوئی جس کی ابتدائی تجلیات  کے مقابلے میں انہیں دنیا کا ہر حسن وجمال حقیر نظر آتا ہے،البتہ جو شخص ان انوار وتجلیات کے مُشاہَدے سے محروم رہا وہ اس بات کو انتہائی دشوار اور بعید سمجھتا ہے۔
	(اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نیک بندوں کے سامنے)دنیا ایک خوبصورت عورت کے رُوپ میں ظاہر ہوتی ہے جو اِتراکر چلتی ہےلیکن اس کی اندرونی حقیقت ان پر مُنکَشِف ہوجاتی ہے کہ یہ ایک بدصورت بُڑھیا ہے جس کی تخلیق ذلت ورسوائی کے خمیر سے کی گئی ہےاور اس نے اپنے عُیُوب ونَقائِص کو چھپانے کے لئے مَکْر وفَریب کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔راہِ سُلوک پر سَفَر کرنےوالے مَردوں کے راستے میں دنیا نے مختلف قِسْم کے جال بچھا رکھے ہیں اور مختلف قسم کے حیلوں اور دھوکوں سے اُ ن کا شکار کرتی ہے،پھر صرف اتنی بات پر اِکتفا نہیں کرتی کہ ملاپ کے وعدوں کی خلاف ورزی کرے بلکہ اُنہیں زنجیروں اور طَوقوں میں جکڑ کر طرح طرح کی تکلیفوں اور آزمائشوں میں مُبْتَلا کرتی ہے۔
	عارِفین چونکہ دُنیا کی پوشیدہ بُرائیوں اور ظاہری افعال پرمُطَّلَع ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے دنیا سے ایسی بے رغبتی اختیار کی جیسی کسی قابلِ نفرت چیز سے کی جاتی ہے۔ان حضرات نے دنیا اور اس کے مال واسباب کی کثرت اور اِس پر فخر کرنے کو مکمل طور پر تَرک کردیا اور ہمہ تناللہعَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب حاصل کرنے کی جُسْتْجُومیں مشغول ہوگئے اور اس بات پر کامل یقین کرلیاکہ انہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ایسا وصال حاصل ہوگا جس