Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
56 - 882
	البتہ!یہ کہا جاسکتا ہے کہ”جن گناہوں پردوزخ کے عذاب کی وعید ہے وہ گناہ کبیرہ ہیں۔“یعنی انہیں اس لئے کبیرہ کہتے ہیں کہ آگ سے عذاب دینا ایک بڑا مُعامَلہ ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ”جن گناہوں پر حد مقرر ہے وہ کبیرہ ہیں۔“ اور دلیل یہ بیان کرے کہ جوواجب سزا دنیا ہی میں اسے دے دی گئی وہ بڑی سزا ہے۔ یہ تعریف بھی کی جاسکتی ہے کہ”قرآن مجید میں جن گناہوں سے ممانعت آئی ہے وہ کبیرہ ہیں۔“ اور کہہ دیا جائے کہ ”قرآن پاک میں خصوصیت کے ساتھ ذکرہونا ان کے بڑا ہونے کی دلیل ہے۔“ پھر لازمی سی بات ہے کہ ان کا کبیرہ وبڑا ہونا بھی ایک اضافی امر ہے کیونکہ قرآن پاک میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کے دَرَجات بھی مختلف ہیں۔
	بیان کردہ ان اصطلاحات وتعریفات میں کوئی حرج نہیں۔ حضراتِ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے منقول الفاظ انہی جہتوں میں گردش کرتے ہیں اور ان کو مذکورہ احتمالات میں سے کسی ایک پرجاری کرنا بعید ازعقل بھی نہیں۔ ہاں یہ بات اہم ہے کہ تم اس فرمانِ باری تعالیٰ کا معنی ومطلب جان لو: اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ  (پ۵،النسآء:۳۱) 		ترجمۂ کنز الایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے۔
	اور حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالی کامفہوم سمجھ لو:اَلصَّلَوَاتُ کَفَّارَاتٌ لِّمَـا بَیۡنَھُنَّ اِلَّا الۡکَبَآئِر یعنی نمازیں درمیان میں ہونے والے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں سوائے کبیرہ گناہوں کے۔(1)
	بلاشبہ یہ فرامین مُقَدَّسَہ کبیرہ گناہوں کو ثابت کررہے ہیں۔
تحقیق مصنّف کا خلاصہ:
	اس بارے میں حق یہ ہے کہ نظرِشریعت میں گناہوں کی تین اقسام ہیں:(۱)وہ گناہ جن کا بڑا ہونا معلوم ہے (۲)وہ گناہ جن کاصغیرہ میں شامل وشمارہونا معلوم ہے اور (۳)وہ گناہ جن میں شک ہے۔ ان کا حکم معلوم نہیں ہے۔
	اس تیسری قسم کے گناہوں کی کامل تعریف اورخاص تعدادجاننے کے لئے کوشش کرناایک ناممکن بات کی طلب وجستجوہے کیونکہ اس کی معرفت حضور نبیّ پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنے بغیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب الطھارة،باب الصلوات الخمس …الخ،ص۱۴۴،حدیث:۲۳۳