نے گھیر رکھا ہے اور وہ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ ان کی طرف سے ذرا بھی غفلت کی تو یہ اسے چیر پھاڑکر کھاجائیں گے،دن ہو یا رات وہ اسی خوف میں مبتلا رہتا ہے اگر چہ دیگر لوگ غفلت کا شکا ر ہوں۔اتنا کہنے کے بعد وہ راہب مجھے چھوڑ کر جانے لگا تو میں نے اس سے کہا:مجھے کچھ اور بھی نصیحت فرمائیے،شاید اس سے مجھے نفع پہنچے۔راہب نے جواب دیا:پیاسے شخص کے لئے ایک گھونٹ پانی ہی کافی ہوتا ہے۔
نظر نہ آنے والے درندے:
راہب کی یہ بات بالکل دُرُست ہے کیونکہ صاف وشفاف دل کو حرکت دینے کے لئے خوف کی ادنٰی مقدار بھی کافی ہوتی ہےجبکہ جو دل سخت ہوچکا ہو اس پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔راہب نےجو درندوں اور حشرات الارض کے انسان کو گھیرنے کی مثال بیان کی ہے یہ محض مثال نہیں بلکہ حقیقت ہے۔اگرآپ نورِ بصیرت سے باطن کو دیکھیں تو وہ طرح طرح کے درندوں میں گھرانظرآئے گامثلاًغصہ،شہوت،کینہ، حسد،تکبر،خودپسندی اور ریاکاری وغیرہ۔اگرآپ (گناہوں کے نظر نہ آنے والے )ان درندوں سے لمحہ بھر کے لئے بھی غافل ہوکر گناہ کرتے ہیں تو یہ درندے آپ کو کاٹتے اور نوچتے ہیں اگرچہ فی الحال اس کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی اور وہ نظر بھی نہیں آرہےمگر مرنے کے بعد قبر میں پردہ اٹھ جائے گااورآپ ان درندوں کو دیکھ لیں گے۔ہاں ہاں آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گےکہ گناہوں نے بچھوؤں اور سانپوں وغیرہ کی شکلوں میں آپ کوقبرمیں گھیر رکھا ہے۔
یقیناًیہ بری خصلتیں درحقیقت خوفناک درندے ہیں جو اس وقت بھی آپ کے پاس موجود ہیں لیکن ان کی بھیانک شکلیں قبر میں نظر آئیں گی۔آپ موت سے پہلے ان سانپوں اور بچھوؤں کو قتل کرنے پر قادر ہیں، اگر انہیں ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو کردیجئےورنہ پھر اپنے ظاہری جسم کے ساتھ ساتھ باطن کو بھی ان کے ڈسنے اور بھنبھوڑنے کے لئے تیار کرلیجئے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے’’خوف اورامید کابیان‘‘مکمل ہوا