ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الْاِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾ (پ۳۰،الانفطار:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اے آدمی تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے۔
لیکن اس کے باوُجود ہم خوابِ غفلت سے بیدار نہیں ہوتےاور نہ دھوکے اور جھوٹی آرزوؤں کی دنیا سے باہر نکلتے ہیں،اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطانہ فرمائی جو ہماری کوتاہیوں کاازالہ کردے تو یہ صورتحال انتہائی خوفناک ہے۔
ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہماری توبہ کو قبول فرمائےاورہمارے دلوں میں توبہ کا شوق پیدا فرمادےاور صرف زبانی طور پر توبہ کے کلمات کی ادائیگی کو ہمار ا حصہ نہ بنائےکہ ہم ان لوگوں میں سے ہوجائیں جو زبان سے جو کچھ کہتےہیں اس پر نہ تو عمل کرتے ہیں اور نہ اسے دل سے قبول کرتے ہیں۔خدانخواستہ کہیں ہماری حالت ایسی نہ ہوجائے کہ ہم وعظ سن کر روئیں دھوئیں اور جب عمل کا وقت آئے تو نافرمانی شروع کردیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کی اس سے بڑی کوئی نشانی نہیں ہے۔ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ہمیں توفیق وہدایت عطا فرمائے۔
پیاسے کے لئے ایک گھونٹ پانی ہی کافی ہے:
ہم نے خائفین کے جس قدر حالات بیان کئے ہیں انہیں پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ قبول کرنے والے دل کے لئے یہ مقدار بھی کافی ہے جبکہ غفلت کے شکار دل کے لئے اس سے زیادہ مقدار بھی ناکافی ہے ۔اس حوالے سے درج ذیل حکایت میں مذکور راہب کی بات بالکل دُرُست ہےچنانچہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن مالک خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی جو کہ عبادت گزار بزرگوں میں سے ہیں، انہوں نے بیت المقدس کے دروازے پر ایک راہب کو کھڑادیکھا جو کہ انتہائی غمزدہ اور پریشان نظر آرہا تھااور اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔فرماتے ہیں:راہب کی اس حالت کو دیکھ کر میں خوف زدہ ہوگیا اور میں نے اس سے کہا:اے راہب! مجھے کوئی وصیت کیجئے جسے میں یاد کرلوں۔اس نے کہا:اے میرے بھائی!میں تمہیں کیا وصیت کروں،اگر تم سے ہوسکے تو اس شخص کی طرح زندگی گزارو جسے چاروں طرف سے درندوں اور حشرات الارض