Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
557 - 882
 ہےتو پھر ہم جیسے لوگ تو خوف کے زیادہ حقدار ہیں۔خوف گناہوں کی زیادتی کے سبب نہیں ہوتا(اگر ایسا ہوتا تو ہم لوگوں کا خوف ان حضرات سے زیادہ ہوتا )بلکہ دلوں کی صفائی اور معرفت کے کامل ہونے کے سبب خوف  پیدا ہوتا ہے۔ہم لوگوں کی بے خوفی کا سبب یہ نہیں کہ ہمارے گناہ کم اور نیکیاں زیادہ ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نفسانی خواہشات ہماری راہنمائی کرتی ہیں،بدنصیبی ہم پر غالب آجاتی ہے اور ہمیں ہماری غفلت کا مشاہدہ کرنے سے روک دیتی ہے پھر نہ تو سفرِ آخرت کے مرحلے کا قریب ہونا ہمیں بیدار کرتا ہے ،نہ گناہوں کی کثرت ہمیں جھنجھوڑتی ہے ، نہ خائفین کے احوال سننے سے ہم پر خوف طاری ہوتا ہے اور نہ برے خاتمے کے خطرات ہمیں ڈراتے ہیں۔اگر عملی تیاری کے بغیر محض زبانی سوال کرنا نفع دے سکتا ہے تو ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے التجا کرتے ہیں  کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ہماری حالت کو دُرُست فرمادے۔
	کس قدر عجیب بات ہے کہ جب ہم دنیوی مال ودولت کمانے کا ارادہ کرتے ہیں تو کھیتی باڑی کرتے ہیں،باغات لگاتے ہیں،تجارت کرتے ہیں،بری اور بحری سفر طے کرتے ہیں اور اس مقصد کےلئےاپنے جان ومال کوخطرے میں ڈالتے ہیں۔اگر ہم نے علم حاصل کرنا ہو تو اس مقصد کے لئے غوروفکر کرتے ہیں،علم کی تکرار اور یاد کرنے کے لئے مشقتیں اٹھاتے اور شب بیداری کرتے ہیں۔حُصولِ رزق کے لئے بھی ہم پوری کوشش کرتے ہیں،اس بات پر تکیہ نہیں کرلیتے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے رزق دینے کا ذمہ لیا ہےاور نہ گھر میں بیٹھ کر یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ہمیں رزق عطا فرمالیکن کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ہمیشہ باقی رہنے والی بادشاہت (یعنی جنت)کے حُصول کے لئے ہم صرف اپنی زبان سے یہ دعا کرنے پر اکتفا کرلیتے ہیں:”اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَایعنی اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔  “
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی ذاتِ پاک جو کہ ہماری امید اور آرزو کا مرکز ہے وہ ہمیں پکار پکار کر اعلان کررہی ہے:
وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ (پ۲۷،النجم:۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اوریہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔
	ایک جگہ ارشادہوتا ہے:   وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿۵﴾ (پ۲۲،فاطر:۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اورہرگزتمہیںاللہکے حلم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔