Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
556 - 882
 دیکھتا تو ایسا لگتا جیسے کوئی قیدی ہے جسے گردن اُڑانے کے لئے لایا گیا ہے ،جب آپ گفتگو فرماتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ آخرت کا مشاہدہ فرمارہے ہیں اور اسے دیکھ دیکھ کر خبر دے رہے ہیں اور جب خاموش ہوتے تو یہ عالم ہوتا گویا ان کی آنکھوں کے سامنے آگ بھڑک رہی ہے۔
	جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس قدر خوف زدہ رہنے سے متعلق عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا:میں اس بات سے بے خوف نہیں ہوں کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ میرے بعض ناپسندیدہ اعمال پر مطلع ہوکر مجھ سے ناراض ہوجائے اور ارشاد فرمادے:”جاؤمیں تمہیں نہیں بخشتا۔“اس صورت میں میرے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔
واعظ کا ایک جملہ مغفرت کا سبب بن گیا:
	حضرت سیِّدُناابْنِ سَمّاکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقفرماتے ہیں:میں نے ایک دن ایک مجلس میں وعظ  کیا تو حاضرین میں سے  ایک نوجوان نے کھڑے ہوکر کہا:اے ابوالعباس!آج آپ نے دورانِ بیان ایک ایسا جملہ کہا ہے کہ اگرہم اس کے علاوہ کچھ نہ سنیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔میں نے کہا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّتم پر رحم فرمائے!وہ جملہ کیا ہے؟نوجوان نے جواب دیا:آپ کا یہ جملہ”جنت یا دوزخ میں سے کسی ایک میں ہمیشہ رہنے کے خیال نے خائفین کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے“پھر وہ نوجوان غائب ہوگیا۔میں نے مجلس میں اسے تلاش کیا لیکن نہ پایا،جب اس کے بارے میں معلومات کی تو پتاچلا کہ وہ بیمار ہے ۔میں اس کی عیادت کے لئے گیا اور اس سےکہا:اے میرے بھائی!تمہیں کیا ہوا ہے؟اس نے جواب دیا:اے ابوالعباس! میری یہ حالت آپ کے اس جملے کے سبب ہے کہ جنت یا دوزخ میں سے کسی ایک میں ہمیشہ رہنے کے خیال نے خائفین کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔پھر اس نوجوان کا انتقال ہوگیا ،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس پر رحم فرمائے۔میں نے اسے خواب میں دیکھ کر استفسار کیا:اے میرے بھائی!اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے تمہارے ساتھ کیا مُعاملہ فرمایا؟اس نے جواب دیا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے میری مغفرت فرمادی،مجھ پر رحم کیا اور داخِلِ جنت فرمایا۔میں نے پوچھا:کس عمل کے سبب؟جواب دیا:اسی جملے کے سبب۔
ہم کیوں خوف زدہ نہیں ہوتے؟
	جب انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،اولیائے کرام اور علمائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ  السَّلَام  کے خوف کا یہ عالَم