Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
555 - 882
 پل صراط الٹ گیا اور وہ دوزخ میں گر گیا۔آپ نے پوچھا:پھر اس کے بعد کیا ہوا؟اس نے عرض کی:پھر سلیمان بن عبدالملک کو لایا گیا اور وہ بھی پل صراط پر چلنے لگا لیکن تھوڑا ہی چلا تھا کہ پل صراط الٹ گیا اور وہ بھی دوزخ میں جاگرا۔آپ نے پوچھا :پھر کیا ہوا؟لونڈی نے عرض کی:اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم !اے امیر المؤمنین!اس کے بعد آپ کو لایا گیا۔یہ سنتے ہی حضرت سیِّدُنا  عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہوکر گرپڑے۔ لونڈی کھڑی ہوکر آپ کے کان میں پکارنے لگی:اے امیر المؤمنین!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!میں نے دیکھا کہ آپ نجات پاگئے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!میں نے دیکھا کہ آپ نجات پاگئے۔ لونڈی یہ پکارتی رہی لیکن آپ چیختے اور ایڑیاں رگڑتے  رہے۔
	حضرت سیِّدُنا  اُوَیْس قَرَنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکے بارے میں منقول ہے کہ آپ واعظ کے پاس جاکر اس کا بیان سنتے اور روتے تھے،جب دوزخ کا ذکر ہوتا تو آپ چیخ مارتے اور اٹھ کر وہاں سے چل پڑتے ،لوگ پاگل پاگل کہتے ہوئے آپ کے پیچھے لگ جاتے۔
	حضرت سیِّدُنا  مُعاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:مومن کا خوف اس وقت تک دور نہیں ہوگا جب تک وہ پُل صِراط کو عبورنہ کرلے۔
	حضرت سیِّدُنا  طاؤسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے لئے بستر بچھایا جاتا اور آپ لیٹتے تو اس طرح بے چینی سے کروٹیں بدلتے جس طرح گرم کڑاہی میں دانے اچھلتے ہیں،پھر اٹھ کر بستر لپیٹتے اور قبلہ رو ہوکر صبح تک رکوع وسجود اور تلاوت میں مشغول رہتے اور ارشاد فرماتے :دوزخ کی یاد نے خائفین کی نیند اڑادی ہے۔
کاش !وہ شخص میں ہوتا:
	حضرت سیِّدُنا  حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:ایک شخص ایک ہزار سال کے بعد دوزخ سے نکلے گا۔کاش!وہ شخص میں ہوتا۔
سیِّدُناحسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا خوف: 
	آ پ نے یہ  بات دوزخ میں ہمیشہ رہنےاوربرے خاتمے کے خوف کے سبب فرمائی۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے خوف کا عالَم یہ تھا کہ آپ 40 سال تک نہیں ہنسے۔راوی کا بیان ہےکہ جب میں انہیں بیٹھے ہوئے