Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
554 - 882
ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس بات کا حَلْف اٹھایا تھا کہ نہ کبھی ہنسیں گے،نہ پہلو کے بل آرام کریں گے اور نہ  مرغن غذائیں استعمال کریں گے۔چنانچہ مرتے دم تک نہ تو آپ کو ہنستے یا پہلو کے بل سوتے دیکھا گیا اور نہ آپ نے کوئی مرغن غذا استعمال فرمائی۔
	حجاج بن یوسُف نے حضرت سیِّدُنا  سعید بن جُبَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے سوال کیا :مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ کبھی نہیں ہنستے۔ارشاد فرمایا:میں کیسے ہنسوں جبکہ جہنم کو بھڑکایا گیا ہے ،طوق نصب کردیئے گئے ہیں اور دوزخ پر مامور فرشتے عذاب دینے کے لئےتیار ہیں۔
	ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا  حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا:اے ابوسعید !آپ نے کس حال میں صبح کی؟ فرمایا:خیر کے ساتھ۔اس نے پھر سوال کیا:آپ کا کیا حال ہے؟یہ سن کرحضرت سیِّدُنا  حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےمسکر ا کر ارشاد فرمایا:تم میرا حال پوچھتے ہو،تمہارا ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو ایک کشتی میں سوار ہوئے،جب دریا کے درمیان پہنچے تو کشتی ٹوٹ گئی اور ہر شخص ایک ایک لکڑی کے ساتھ لٹک گیا ،بھلا ان لوگوں کا کیا حال ہوگا؟اس شخص نے کہا:بہت برا حال ہوگا۔حضرت سیِّدُنا  حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ارشاد فرمایا:میرا حال ان سے بھی زیادہ بُرا ہے۔
پُل صِراط کی دہشت:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا  عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی ایک لونڈی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی،آپ کو سلام کیا اور پھر مسجدِ بیت میں دو رکعتیں ادا کیں جس کے بعد اسے نیند آگئی۔نیند ہی کی حالت میں وہ رونے لگی اور پھر بیدار ہوکر حضرت سیِّدُنا  عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمت میں عرض  گزار ہوئی:اے امیرالمؤمنین!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لونڈی نے عرض کی:میں نے دیکھا کہ دوزخ جہنمیوں پر بھڑک رہی ہے ،پھر پل صراط کو لاکر دوزخ کی پشت پر رکھا گیا۔آپ نے پوچھا :پھر کیا ہوا؟اس نے عرض کی:عبدالملک بن مروان کو لایا گیا اور وہ پل صراط پر چلنے لگا،ابھی تھوڑا ہی چلا تھاکہ پل صراط الٹ گیا اور وہ جہنم میں جاگرا۔آپ نے فرمایا :پھر کیا ہوا؟ لونڈی نے کہا:پھر ولید بن عبدالملک کو لاکر پل صراط پر چلایا گیا،اس نے تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ