Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
553 - 882
 دوسرے شخص کے پاس پہنچے ،میں نے اس کے سامنے بھی یہی آیات تلاوت کیں تو وہ بھی چیخ مار کر بے ہوش ہوگیا۔اس کے بعد ہم ایک تیسرے شخص کے پاس گئے اور داخلے کی اجازت طلب کی۔اس نے جواب دیا:اگر تم ہمیں ہمارے رب سے غافل نہیں کرو گے تو داخل ہوجاؤ۔ہم اندر داخل ہوئے اور میں نے اس کے سامنے یہ آیتِ مقدسہ تلاوت کی:  ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیۡ وَخَافَ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾ (پ۱۳،ابراھیم:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ اس کے لئے ہے جو  میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اورمیں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔
	اسے سن کر اس شخص نے ایک چیخ ماری ،اس کے نتھنوں سے خون جاری ہوگیا اور وہ اسی خون میں تڑپنے لگا یہاں تک کہ خون خشک ہوگیا،اسے اسی حالت میں چھوڑ کر ہم وہاں سے باہر نکل آئے ۔
	اس طرح میں ان کوچھ افراد کے پاس لے کرگیا،ہر کسی کو ہم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر وہاں سے نکل آتے۔اس کے بعد ہم ساتویں شخص کے پاس گئے اور داخلے کی اجازت طلب کی،جھونپڑی کے اندرسے ایک عورت نے جواب دیا:آجاؤ،ہم اندر داخل ہوگئے تو ایک انتہائی بوڑھا شخص مصلے پر بیٹھا ہوا تھا ،ہم نے اسے سلام کیا لیکن اسے ہمارے سلام کا علم نہ ہوا۔میں نے بلند آواز سے کہا:خبردار!مخلوق کو کل کھڑا ہونا ہے۔بوڑھے شخص نے پوچھا:تیری خرابی ہو!کس کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔اس کے بعد وہ ہَکّا بَکّا منہ کھولے اور آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائے کمزور آواز سے آہ آہ  کرنے لگا یہاں تک کہ اس کی آواز منقطع ہوگئی۔عورت نے ہم سے کہا:یہاں سے چلے جاؤ کیونکہ اب تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
	اگلے دن میں نے ان ساتوں حضرات کے بارے میں معلومات کی تو پتاچلا کہ ان میں سے تین افراد کو ہوش آگیا تھا، تین اسی حالت میں فوت ہوگئے تھےجبکہ بوڑھا شخص تین دن تک اسی طرح ہَکّابَکّا اور حیران وپریشان رہا یہاں تک کہ اسے فرض نماز کا ہوش بھی نہ رہاتین دن گزرنے کے بعد وہ دوبارہ ہوش میں آیا۔ 
زندگی بھر نہ ہنسے:
	حضرت سیِّدُنا اَسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے بارے میں مشہور تھا کہ آپ ابدال کے مَنْصَب پر فائز