Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
552 - 882
 سے پوچھا:کیا وجہ ہے کہ جب دیگر لوگ گفتگو کرتے ہیں تو کوئی نہیں روتا اور جب آپ بولتے ہیں تو میں ہر طرف سے آہ وبُکا کی آوازیں سنتا ہوں؟ارشاد فرمایا:اے میرے بیٹے!جس عورت کا بچہ فوت ہوجائے اس کا رونا اور اُجرت کے عوض رونے والی عورت کا رونا برابر نہیں ہوتا۔
بارگاہِ الٰہی میں پیش ہونے کا خوف:
	منقول  ہےکہ چند لوگوں نے ایک عابد کو دیکھا جو رورہا تھا تو اس سے سوال کیا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! کس چیز نے آپ کو رلایا ہے؟عابد نے جواب دیا:مجھے اس خوف نے رلایا ہے جسے خائفین اپنے دلوں میں پاتے ہیں۔انہوں نےدوبارہ پوچھا:کس چیز کا خوف ؟عابد نےکہا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سامنے پیش ہونے کے لئے دی جانے والی آواز کا خوف۔ 
	حضرت سیِّدُنا  ابراہیم خواصعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقدعا کے دوران روتے ہوئے بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور تیری عبادت کرتے کرتے میرا جسم کمزور ہوچکا ہے ،اب مجھے آزاد فرمادے۔
خائفین کی حالت:
	حضرت سیِّدُنا  صالح مُرِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا  ابنِ سَمّاکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق ایک مرتبہ بصرہ تشریف لائے تو مجھ سے ارشاد فرمایا:مجھے اپنے یہاں کے عبادت گزاروں کے کچھ عجیب مُعاملات دکھاؤ۔میں انہیں ساتھ لے کر ایک محلے میں موجود جھونپڑی کے پاس لے گیا اور اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔اجازت ملنے پر ہم اندر داخل ہوئےتو ایک شخص چٹائی بنا رہا تھا۔میں نے اس کے سامنے یہ آیاتِ مبارکہ تلاوت کیں:
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیۡۤ اَعْنَاقِہِمْ وَ السَّلٰسِلُ ؕ یُسْحَبُوۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾ فِی الْحَمِیۡمِ ۬ۙ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾ (پ۲۴،المؤمن:۷۲،۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان:جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں گھسیٹے جائیں گے کھولتے پانی میں پھر آ گ میں دہکائے جائیں گے۔
	اس شخص نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہوکر گرپڑا۔ہم اسے اسی حال میں چھوڑ کر باہر نکلےاور ایک