اگر حقیقت کا علم ہوجائے تو!
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عَمْرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا فرمان ہے:رواوراگررونا نہ آئے تو رونے جیسی صورت ہی بنالو ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قُدرت میں میری جان ہے !اگر تم میں سے کسی کو حقیقت کا علم ہوجائے تو وہ اس قدر چیخے کہ اس کی آواز منقطع ہوجائے اور اتنی زیادہ نمازیں پڑھے کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے۔
غالباً آپ نے اس حدیثِ پاک کی طرف اشارہ فرمایا ہے: لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلًا وَّلَبَكَيْتُمْ كَثِيْرً ا یعنی اگر تم لوگ وہ باتیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو تھوڑا ہنستے اور بہت روتے۔(1)
سیِّدُنافضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا خوف:
حضرت سیِّدُناعَنْبَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دروازے پر محدثین جمع ہوئے،آپ نے انہیں کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔اس وقت آپ رورہے تھے اور آپ کی داڑھی مبارک ہل رہی تھی،آپ نے ارشاد فرمایا:تلاوتِ قرآن اور نماز کو لازم پکڑلو۔افسوس ہے تم پر!یہ وقت حدیث کانہیں بلکہ رونے، گڑگڑانے،آہ وزاری کرنے اور ڈوبنے والے شخص کی طرح دعا کرنے کا وقت ہے۔یہ ایسا زمانہ ہے کہ اس میں اپنی زبان کی حفاظت کرو،گوشہ نشینی اختیار کرو،اپنے دل کا علاج کرو،جن چیزوں کو جانتے ہو انہیں اختیا رکرو اور جنہیں نہیں جانتے انہیں ترک کردو۔
حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ایک دن کسی نے چلتے ہوئے دیکھاتو پوچھا:کہاں جارہے ہیں؟ارشاد فرمایا:میں نہیں جانتا۔اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خوف کے سبب حواس باختگی کے عالَم میں چل رہے تھے۔
حقیقی گریہ:
حضرت سیِّدُنا ذر بن عمررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے والد ماجد حضرت سیِّدُنا عمر بن ذررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب الکسوف، باب الصدقة فی الکسوف،۱/ ۳۵۸،حدیث:۱۰۴۴