Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
550 - 882
 سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز مزید رونے لگے اور عرض کی:اے یزید!مزیدنصیحت کیجئے!فرمایا: اے امیرالمؤمنین!آپ کے اور جنت ودوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے،یہ سن کرحضرت عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بے ہوش ہوکر گرپڑے۔ 
	حضرت سیِّدُنا میمون بن مہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکا بیان ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ اَجْمَعِیۡنَ  ﴿۴۳﴾۟ۙ (پ۱۴،الحجر:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک جہنم ان سب کا وعدہ ہے۔
	توحضرت سیِّدُنا سَلْمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک چیخ ماری اور سر پر ہاتھ رکھ کربھاگ کھڑے ہوئے،اس کے بعد تین دن تک آپ کا کچھ پتا نہیں چلا۔ 
	حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک خاتون کو دیکھا جو اپنے بیٹے کی قبر پر رورہی تھی اور کہہ رہی تھی:اے میرے بیٹے!کاش مجھے یہ معلوم چل جائے کہ کیڑوں نے پہلے تیرا کون سا رخسار کھایا ہے؟یہ سن کر حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپر غشی طاری ہوئی اور آپ اسی جگہ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔
خوف نے کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے کردیا:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  ایک مرتبہ بیمار ہوئے تو آپ کا قارُوْرَہ(یعنی پیشاب )ایک ذِمی طبیب کو دکھایا گیا،قارورہ دیکھ کر طبیب نے کہا:خوف نے اس شخص کے کلیجے کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئےہیں۔پھر وہ طبیب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آیا اور آپ کی نبض دیکھ کر کہنے لگا:میں نہیں جانتا تھا کہ دیْنِ اسلام میں ایسی ہستیاں بھی موجود ہیں۔
خوفِ خدا کا سُوال:
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل فرماتے ہیں:میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے سوال کیا کہ مجھ پر خوف کا دروازہ کھول دے،اس نے کھول دیا تو مجھے اپنی عقل زائل ہونے کا خوف ہوا،میں نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:اے میرے رب!مجھے اتنا خوف عطا فرماجسے میں برداشت کرسکوں چنانچہ میرا دل پُرسکون ہوگیا۔