کو توکبیرہ گناہوں میں شمار کیاہے مگر جسمانی کبیرہ گناہوں میں صرف قتل کا ذکر کیا ہے جبکہ آنکھ پھوڑنا، ہاتھ کاٹ دینا، مسلمانوں کو مارنا پیٹنا اورطرح طرح کی اذیتیں پہنچانا وغیرہ گناہوں میں سے کسی کا ذکر نہیں کیا حالانکہ یتیم کو مارنا، اسے اَذِیَّت دینا اور اس کے اَعضاء کاٹنا بلاشبہ اس کا مال کھانے سے بڑے گناہ ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ حدیْثِ مبارَک میں ہے:”مِنَ الۡکَبَآئِرِ اَلسَّبَّتَانِ بِالسَّبَّةِ وَمِنَ الۡکَبِآئِرِ اسۡتِطَالَةُ الرَّجُلِ فِیۡ عِرۡضِ اَخِیۡہِ الۡمُسۡلِم یعنی ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دینا کبیرہ گناہ ہے اور کسی شخص کا اپنے مسلمان بھائی کی آبروریزی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔“(1)
حضرت سیِّدُناابوسعیدخُدری اوربعض صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانفرمایا کرتے تھے:تم بہت سے ایسے اَفعال کرگزرتے ہو جو تمہاری نگاہ میں بال سے زیادہ باریک ہیں حالانکہ ہم زمانہ نَبَوِی میں ان کو کبیرہ گناہ شمار کرتے تھے۔(2)
٭…علما کے ایک گروہ کے نزدیک جان بوجھ کر کیا جانے والاہر گناہ کبیرہ ہے۔
٭…بعض نے فرمایا کہ ہروہ کام جس سے رب تعالیٰ نے منع فرمایا ہے وہ کبیرہ ہے۔
کبیرہ وصغیرہ کے متعلق مصنّف کی تحقیق:
اس راز سے یوں پردہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ چوری کے فعل میں غور کرناکہ یہ کبیرہ ہے یا نہیں؟ اس وقت تک دُرُست نہیں جب تک یہ سمجھ نہ آجائے کہ کبیرہ کا معنی کیا ہے اور اس سے مرادکیاہے؟ جیسےکسی کا یہ کہنا کہ ”چوری حرام ہے یا نہیں؟“ تو اس وقت تک کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا جب تک حرام کا معنی معلوم نہ ہوجائے اور یہ کہ وہ معنیٰ چوری میں پایا جاتا ہے یا نہیں؟
اس اجمالی گفتگوسے معلوم ہوگیاکہ لفظ کی حیثیت سے”کبیرہ “ایک مبہم وغیرواضح مفہوم ہے۔ لغت اور شریعت میں اس کے لئے کوئی خاص مفہوم متعین نہیں ہے اور یہ اس لئے کہ صغیرہ اور کبیرہ دونوں اضافی وصف ہیں اور ہر گناہ اپنے سے کم تر گناہ کے مقابلہ میں کبیرہ ہے اوراپنے سے اوپر والے گناہ کے مقابلہ میں صغیرہ ہے جیسےاجنبی عورت کے ساتھ بسترپر لیٹنا اسے دیکھنے کے مقابلے میں کبیرہ ہے مگر زنا کے مقابلے میں صغیرہ ہے، مسلمان کا ہاتھ کاٹنا اسے مار پیٹ کرنے کی نسبت کبیرہ ہے مگر قتل کردینے کی نسبت صغیرہ ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الغیبة ،۴/ ۳۵۳، حدیث: ۴۸۷۷، بتقدم وتاخرمع تغیرقلیل
2…المسندللامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک،۴/ ۵۶۸، حدیث : ۱۴۰۴۱