حضرت سیِّدُنا صالح مُرِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:میں نے ایک عبادت گزار شخص کے سامنے یہ آیت تلاوت کی:
یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡہُہُمْ فِی النَّارِ یَقُوۡلُوۡنَ یٰلَیۡتَنَاۤ اَطَعْنَا اللہَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوۡلَا ﴿۶۶﴾ (پ۲۲،الاحزاب:۶۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن ان کے منھ اُلٹ اُلٹ کر آ گ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا۔
تو وہ بے ہوش ہوگیا،جب ہوش میں آیا تواس نے مجھ سےکہا:اے صالح !مجھے مزید قرآن سناؤ کیونکہ میں غم کی کیفیت پاتا ہوں۔میں نے یہ آیت تلاوت کی: کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخْرُجُوۡا مِنْہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمْ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾ (پ۲۱،السجدة:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دئیے جائیں گے اور ان سے فرمایا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے۔
یہ سن کر اس شخص کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
منقو ل ہے کہ حضرت سیِّدُنا زرارہ بن ابی اوفٰیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے لوگوں کے ساتھ فجر کی نماز ادا فرمائی۔ جب یہ آیتِ مُقَدَّسہ تلاوت کی گئی: فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾ (پ۲۹،المدثر:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب صور پھونکا جائے گا۔
تو آپ بے ہوش ہوگئے اور آپ کو مردہ حالت میں اٹھاکر لایا گیا۔
سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا خوف:
حضرت سیِّدُنا یزید رَقاشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیحضرت سیِّدُناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس تشریف لائے توآپ نےعرض کی:اے یزید!مجھےنصیحت فرمائیے!فرمایا:اے امیر المؤمنین!اس بات کوجان لیجئے کہ آپ پہلےخلیفہ نہیں ہیں جسے موت آئے گی۔یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز رونے لگے اور عرض کی:مزید نصیحت فرمائیے!فرمایا:اے امیر المؤمنین!آپ کےاور حضرت سیِّدُنا آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان جس قدر آباء واجداد ہیں وہ سب کے سب مرچکے ہیں۔یہ