سیِّدُنا عطاءسَلِیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا خوف:
حضرت سیِّدُنا عطاءسَلِیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیخوفِ خدا رکھنےوالے حضرات میں سے تھے۔آپاللہ عَزَّ وَجَلَّسے کبھی جنت کا سوال نہیں کرتے تھے بلکہ محض عفو ومغفرت کی دعا کرتے تھے۔بیماری کی حالت میں آپ سے عرض کی گئی:کیا آپ کو کسی چیز کی خواہش ہے؟ارشاد فرمایا:جہنم کے خوف نے میرے دل میں کسی خواہش کے لئے جگہ نہیں چھوڑی۔کہا جاتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے40برس تک نہ تو آسمان کی طرف سر اٹھایا اور نہ ہنسے۔ایک دن آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھالیا تو خوف زدہ ہو کر گرپڑے اور آپ کے پیٹ کی ایک آنت پھٹ گئی۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہرات میں اپنے جسم کو ٹٹول کر دیکھتے تھے کہ کہیں وہ مسخ تو نہیں ہوگیا۔اگر کبھی تیز ہوا چلتی،بجلی چمکتی یا کھانے کی اشیاء مہنگی ہوجاتیں تو آپ ارشاد فرماتے:میری وجہ سے لوگوں پر یہ مصیبت آئی ہے،اگر عطاء مرجائے تو لوگ آرام پا ئیں ۔
حکایت:نافرمانی یاد کرکے بے ہوش ہوگئے
حضرت سیِّدُنا عطاء سَلِیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیارشاد فرماتے ہیں:ایک دن ہم حضرت سیِّدُناعُتْـبَۃُ الْغُلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ساتھ روانہ ہوئے،ہم میں ادھیڑ عمرافراد بھی شامل تھے اور جوان بھی۔ان لوگوں کی عبادت وریاضت کا عالم یہ تھا کہ عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے تھے ،طویل قیام کے سبب ان کے پاؤں سوج گئے تھے،ان کی آنکھیں سر میں دھنسی ہوئی تھیں،کھالیں ہڈیوں سے چپک گئی تھیں اور ان کی رگیں ایسی تھیں جیسے تار ہوں۔یہ لوگ اس حالت میں صبح کرتے تھے کہ ان کی کھالیں تربوز کے چھلکے کی طرح ہوتی تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ ان لوگوں کو قبروں سے اٹھایا گیا ہے اور اب انہیں بتایا جائے گا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کس طرح اطاعت گزاروں کا اکرام فرمائے گا اور گناہ گاروں کو ذلیل کرے گا۔یہ تمام حضرات چلتے چلتے جب ایک مکان کے پاس سے گزرے تو حضرت سیِّدُناعُتْبَۃُ الْغُلامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبے ہوش ہوکر گرپڑے، آپ کے ساتھی پا س بیٹھ کر رونے لگے۔سخت سردی کا دن تھا لیکن اس کے باوجود آپ کی پیشانی پر پسینہ موجود تھا۔آپ کے چہرے پر پانی ڈالا گیا تو آپ ہوش میں آگئے،جب بے ہوشی کا سبب پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:اس مقام سے گزرتے ہوئے مجھے یاد آ گیا کہ میں نے یہاں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کی تھی۔