کے نزدیک سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بڑھ کر کسی کا مقام نہیں ہے اس کے باوجود آپ کے کئی قریبی رشتے داروں اور دشمنوں کو آپ کی ملاقات سے فائدہ نہ ہوااور وہ ایمان نہ لائے۔
سیِّدُنا سَرِی سقطیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا خوف:
حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:میں دن میں کئی مرتبہ اپنی ناک کی طرف دیکھتا ہوں اس خوف کے سبب کہ کہیں( گناہوں کے باعث) میرا چہرہ تو سیاہ نہیں ہوگیا۔
سیِّدُنا ابُوحَفص عُمَر بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا خوف:
حضرت سیِّدُنا ابو حفص عمر بن مسلم حَدَّادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے ارشادفرمایا:چالیس سال سے میرا اپنے بارے میں یہ گمان ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ میری طرف ناراضی کی نظر سے دیکھتا ہے اور میرے اعمال بھی اس بات کےگواہ ہیں۔
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک دن اپنے دوستوں کے پاس تشریف لائے تو ارشاد فرمایا:گزشتہ رات میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بڑی جرأت کی کہ اس سے جنت کا سوال کیا ۔
سیِّدُنا محمد بن کعب قُرَظِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا خوف:
حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب قُرَظِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی والدہ نے ان سے ارشاد فرمایا:میرے بیٹے!میں تمہیں جانتی ہوں کہ تم بچپن میں بھی پاکباز تھے اور بڑے ہوکر بھی نیکو کار رہے ،اب شاید تم نے کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کرلیا ہے کیونکہ میں دیکھتی ہوں کہ تم رات دن عبادت وریاضت اور خوفِ خدا سے رونے میں مشغول رہتے ہو۔حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب قرظی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے عرض کی:امی جان!میں اس بات سے بے خوف نہیں ہوں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کسی گناہ میں مشغول پاکر مجھ سے ناراض ہوکر یہ ارشاد فرمادے: میری عزت کی قسم!میں تجھے نہیں بخشوں گا۔
قابلِ رشک کون؟
حضرت سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:مجھے نہ تو کسی رسول پر رشک آتا ہے،نہ